پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں پر پولیس کے وھشیانہ تشدد، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے جسے زور و جبر سے دبایا نہیں جا سکتا، اپنے ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں سول ڈکٹیٹر شپ قائم ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کر لئے گئے ہیں، معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بجائے حکمران پولیس گردی کے ذریعے معاملات نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں جو کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہو تا، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہسپتالوں میں دفعہ144کا نفاذ اور پولیس کے ذریعے لوگوں کو دبانے کا عمل خطرناک ہے جس کی قیمت نا اہل حکمرانوں کو بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی، انہوں نے کہا کہ اداروں کی نجکاری کر کے حکومت اپنی ترجیحات سے راہ فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ حکومت کو ہسپتالوں کی نجکاری کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے کیونکہ انہیں پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ چھ سال سے عام مریض متاثر ہو رہے ہیں،انہوں نے تمام گرفتار ڈاکٹروں کی رہائی اور کارروائی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اے این پی ڈاکٹر برادری کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور مطالبات کی منظوری تک ان کا ساتھ دے گی۔