پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے اور مرکزی صدر بازار میں مشہورتختوں مسجد والی روڈ کو ون وے کرنے سے نہ صرف سارے صوبے کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہو جائیں گی بلکہ بی آر ٹی اور دہشت گردی کی وجہ سے مفلوک الحال تاجر برادری بھی دیوار سے لگ جائیگی۔صدر بازار میں تختوں مسجد والی روڈ کو ون وے کرنے کے خلاف تاجر برادری کے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں ایک طرف اگر ٹیکسوں کی وجہ دکاندار پریشان ہیں تو دوسری طرف ملکی سطح پر حکومت کی کمزور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بھی ماندپڑ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں اور اس سڑک کو ون وے کر دیا گیا تو اس سے نہ صرف پشاور کی معیشت متاثر ہو گی بلکہ سارے صوبے کی مرکزی معاشی سرگرمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ یہ ایک انسانی اور قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے مسئلے کے حل کیلئے انتظامیہ کو یاد دلایا کہ صدر بازار میں دو طرفہ سڑک رواں دواں رہنا چاہیے،اگر گاڑیوں کا رش زیادہ ہو اور پارکنگ میں مشکل درپیش ہو تو اس کیلئے ملٹی سٹوری پارکنگ پلازہ بنایا جائے اس سے کنٹونمنٹ بورڈٖکو معاشی فائدہ بھی ہوگا اور تاجر برادری کا جائز مطالبہ بھی حل ہوجائیگا۔انہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو ہمدردانہ انداز میں صوبے کے مفاد میں حل کریں۔ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ خالصتا ٹریفک کا مسئلہ ہے اور اسے ان ہی بنیادوں پر حل کرانا چاہئے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے سوال کیا کہ تاجروں کی زندگی اور موت کے اس مسئلے پر وہ کہاں سو رہی ہے کیونکہ یہ ایک صوبائی مسئلہ ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہ وہ تاجروں کا یہ معاشی قتل برداشت نہیں کریں گے اور سارے صوبے کی تاجر برادری کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔