پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اے این پی کا ہراول دستہ اور طلبا کے حقوق کی علمبردار تنظیم ہے، باچاخان نے پشتون قوم کو قومیت کا ایک جدید تصور دیا جو کہ علم، تحقیق اور عدم برداشت پر مبنی تھا اس لئے ہماری نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ قلم اور کتاب کو اپنا ہتیھار بنالیں تاکہ وہ ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہوسکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پختون ایس ایف کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، پختون ایس ایف کے صوبائی ایڈوائزر صدرالدین مروت،تنظیم کے مرکزی چیئرمین حق نواز خٹک اور صوبائی صدر وسیم خٹک نے خطاب کیا،اے این پی کے صوبائی سیکرٹری مالیات مختیار خان اور سینئر رہنما ارباب محمد طاہر خان بھی اجلاس میں موجود تھے،ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت و افادیت پر زور دیا اور کہا کہ کارکن اور تنظیمیں کسی بھی جماعت و تنظیم کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں،انہوں نے کہا کہ پارٹی آئین سے کوئی شخص بالاتر نہیں جو بھی ڈسپلن توڑے گا وہ پارٹی کا حصہ نہیں رہ سکتا، انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ پختون ایس ایف کے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ممبر سازی و تنظیم سازی کا حصہ بنیں، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سیاسی شعور میں بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتی آئی ہے اور اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ پی ایس ایف کو مزید فعال بنانے پر بھرپور توجہ دی جائیگی اور اس مقصد کیلئے کارکنوں کو منظم طریقے سے متحرک بنایا جائیگا تاکہ خطے کے حالات کے تناظر میں پی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے مثبت کام لیا جائے۔