پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں عملاً مارشل لا نافذ ہے اور صدارتی حکم ناموں سے ملک کو چلانے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے،عوام کی حقیقی منتخب حکومت کی عدم موجودگی جمہوریت نہیں کہلا سکتی، حقیقی جمہوریتیں شہریوں کے ٹیکسز سے حاصل ہونے والی آمدنی عوام ہی کے حقوق غضب کرنے پر نہیں لٹاتیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر جمہوری قوتیں کرتا دھرتا ہیں اور میڈیا کو دبانے، سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے اور سیاسی کارکنوں کے خلاف من گھڑت مقدمات بنانے جیسے فاشسٹ اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر ملک تنہا ہو چکا ہے، انہوں نے تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ آمرانہ قوتوں اور ریاستی اداروں کی غیرآئینی دست درازیوں کو رد کرتے ہوئے حقیقی جمہوریت اور انسانی حقوق و آزادیوں کے لیے متحد ہو کر میدان میں نکلیں، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سب سے بڑھ کر عوام کے شہری، انسانی، معاشی اور سماجی حقوق کو کچلا جا رہا ہے، ایمل خان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تمام طرح کے میڈیا کو آمرانہ بندشوں میں جکڑ کر کھلی سینسرشپ مسلط کر دی گئی ہے، جس کی ذمہ داری سلامتی کے اداروں اور حکومت پر عائد ہوتی ہے، ہزاروں صحافی بیروزگار اور سینکڑوں پر بندشیں لگا دی گئی ہیں اور یہ سب کچھ ایک عجیب الخلقت جنگ کے نام پر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو ایک یکطرفہ اور منتقمانہ احتساب کی صورت میں بدترین انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوامی نمائندوں کو اسمبلیوں میں اپنے حلقوں کی نمائندگی سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری ہے،، اقتدار پر مخصوص ٹولے کو قابض رکھنے کیلئے اے این پی کے رہنماؤں کو ہمیشہ سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں ہر وہ کام دیکھنے کو ملا جو بہر طور ملک اور اس کے عوام کے مفادات کے خلاف ہو، انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بقا اور ملکی سلامتی کیلئے نئے انتخابات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک میں انتخابات کرا کے اقتدار منتخب عوامی نمائندوں کو دیا جائے۔