پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس لاپتہ افراد کے معاملے کو تقویت دینے کیلئے نافذ کیا گیا ہے، اے این پی ایسا کوئی قانون بننے نہیں دے گی جس میں عام آدمی کو اٹھا کر غائب کرنے کی پالیسی اختیار کی جانے والی ہو، اپنے دورہ سوات کے دوران گبریال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ گورنر خیبر پختونخوا نے خاموشی سے آرڈی ننس نافذ کر کے صوبائی اسمبلی پر حملہ کیا ہے،کشمیر سے متعلق آرٹیکل370کے خاتمے پر واویلا کرنے والوں نے صوبے میں عوام دشمن قانون نافذ کر کے شہریوں کی جانیں داؤ پر لگا دیں،انہوں نے کہا کہ مذکورہ قانون کے تحت ادارے سیکورٹی کے نام پر کسی بھی شہری کو گھر، دکان،حجرے اور دیگر پبلک مقامات سے اٹھا کر غائب کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں گورنر نے پشاور ہائیکورٹ کے اختیارات کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور لاپتہ افراد کے بارے میں پوچھ گچھ کا حق بھی عوام سے چھین لیا گیا ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک بھر خصوصاً خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کا معاملہ گھمبیر صورتحال سے دوچار رہا اور اب اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ طاقتور اداروں کو قانونی چھتری فراہم کر کے شہریوں کو غائب کرنے کا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کالاباغ ڈیم اپنے منصوبہ سازوں کے ساتھ ہی دفن ہو چکا ہے،متنازعہ ایشو کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اے این پی کی بھرپور مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ سوات کا دورہ انتہائی کامیاب رہا اور چھ روزہ دورے کے دوران ہم نے باچا خان اور ولی خان کے نظریات و سوچ و فکر کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے،ملک نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور ایسی صورتحال میں پختونوں کے مسائل کا حل باہمی اتحاد میں مضمر ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کی سیاسی تاریخ پر بدنما داغ ہے،عوام دشمن حکمرانوں نے دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کے عوام کو جیتے جی مار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا اور اس مقصد کیلئے ہم اقتدار کے محتاج نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے، صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔