پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے سوات گبرال میں اپنے نو روزہ تنظیمی دعرے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں اہلیان سوات کو تین بنیادی قومی مسئلے درپیش ہیں جس کی وجہ سے عوام میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے،سوات ایکسپریس وے کے ذریعے غرین عوام کی زمینیں اُن سے لی جارہی ہے،عوام کا مطالبہ ہے کہ اس ایکسپریس وے کو دریا کنارہ تعمیر کیا جائے،سوات کے عوام کا دوسرا دیرینہ مسئلہ صوبائی حکومت کی جانب سے اُن کی جنگلات پر قبضے کی ہے،اسی طرح گجرات میں قتل ہونے والے کالام کے رہایشی مسکین شاہ کے خاندان کو بھی تاحال انصاف نہیں مل سکا،اگر ان تمام مسائل کو سوات کے عوام کے امنگوں کے مطابق حل نہ کیا گیا تو اے این پی ان مسائل کے حوالے سے بحثیت پارٹی عدالت کا رخ کریگی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ مرکزی صدر اسفندیار ولی خان واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد لاک ڈاون میں اے این پی کا وہی فیصلہ ہوگا جو اے پی سی اور رہبر کمیٹی کا فیصلہ ہوگا،کیونکہ تحریک کی کامیابی کیلئے تمام جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا ضروری ہے،احتجاج کے حوالے سے جو فیصلہ اے پی سی کا ہوگا وہی اے این پی کا ہوگا،یہ میرا تجویز ہے باقی اے این پی کے مرکزی تنظیم کا جو فیصلہ ہوگا وہ سارے پارٹی کو قابل قبول ہوگا۔اسلام آباد بند کرنا اتنا مشکل کام نہیں ہے،وہ ایک بھی سیاسی پارٹی بند کرسکتی ہے لیکن تمام اپوزیشن جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا ضروری ہے۔مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ساری دنیا اور پاکستان کو سمجھ آرہا ہے کہ ٹرمپ ثالث ہے یا وہ کس طرف ہے؟ہماری خارجہ پالیسی اس حد تک ناکام ہوچکی ہے کہ ووٹ سعودی عرب نے بھارت کو دیا اور ہمارے وزیراعظم کو جہاز پر ٹرخایا۔ریاست مدینہ کانام لیکر حکمران بھکاری بن گئے ہیں،سارے مضبوط قوتوں کا اونٹ ہندوستان کے حق میں بیٹھ رہا ہے،سلیکٹڈ نے امریکہ میں اپنے جلسہ عام کے دوران کیا کہا تھا اور مودی نے اپنے جلسے میں کیا کہا؟ہمارا بے وقوف اعظم اپنے جلسہ عام میں کہتا ہے کہ فلاں کا ٹی وی بند کراوں گا،فلاں کو اے سی کی اجازت نہیں ہوگی،مودی اپنے جلسہ عام میں کہتا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم نے امریکہ سے مل کر دہشتگردی کے خلاف لڑنا ہے،یہی فرق ہے مودی اور سلیکٹڈ کی پالیسیوں میں۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ پچھلی دفعہ سلیکٹڈ کشمیر کا سودا کرکے آیا تھا خدا خیر کریں کہ اس بار وہ کیا سودا کرکے آرہے ہیں،ثالثی کے اعلان پر اس بار قوم نے تالیاں نہیں بجانی،اس بار عوام نے سلیکٹڈ سے حساب کتاب لینا ہے کہ امریکہ میں کیا سودا کرکے آیا ہے؟وزیر اعظم کی جانب القاعدہ کو ٹریننگ دینے کی بیان پر ایمل ولی خان نے کہا کہ جب ہم یہی بات کرتے تھے تو ہمیں ملک دشمن کہا جاتا تھا،ہم ہندوستان کے ایجنٹ تھے،روسی تھے اور اسلام دمشن بھی تھے،آج عمران خان چالیس سال بعد وہی باتیں کررہا ہے کسی کی کان پر جو تک نہیں رینگتی؟انہوں نے کہا کہ ریاستیں ایسی نہیں چلتی کہ آپ دہشتگردی کے نام پختون علاقوں میں ایسے قوانین پاس کریں کہ دنیا کو ایسا تاثر ملیں کہ پختون دہشتگرد ہیں،اے این پی کسی صورت ایکشن ان ایڈ سول پاور ایکٹ جیسے قانون پر خاموش نہیں رہی گی کیونکہ پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردی کی ذمہ داری مشرف اور ضیاء الحق پر عائد ہوتی ہے،پختون اُس جنگ میں شہید ہوئے ہیں،اس بار ہم نے مزاحمت کی حد تک جانا ہے اگر پختونوں کودہشتگرد کے طور پر پیش کیا جائیگا۔