عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے،ڈی چوک والے ڈرامے ایک بار پھر دیکھنے کو مل رہے ہیں،اے این پی کو حکومت گرانے کی ضرورت نہیں،لولی لنگڑی حکومت کو اندر خانے دیمک چاٹ رہی ہے،بہت جلد خود گر جائے گی، تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ سوات کے دوران بریکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی و ضلعی رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے، ایمل ولی خان نے کہا کہ معیشت کی بہتری کیلئے حکمرانوں اور انہیں زبردستی اقتدار میں لانے والے مستعفی ہو جائیں اور حکومت جمہوریت پسند قوتوں کے حوالے کر دی جائے تو ملک بہتر انداز میں چل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کبھی بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گی، انہوں نے کہا کہ سوات کے دورے کا بنیادی مقصد ناراض ساتھیوں کو منانا اور پارٹی کو مزید فعال کرنا ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پر امن پاکستان کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے،دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے،انہوں نے کہا کہ مسئلے کا بنیادی حل یہ ہے کہ خرابی کی جڑ تک پہنچا جائے اور جو بھی اس خرابی کے ذمہ دار ہوں انہیں قوم کے سامنے معافی مانگنی چاہئے،انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان کا امن قطر میں بیٹھ کر طے نہیں کیا جا سکتا، تمام سٹیک ہولڈرز بشمول افغانستان کی حکومت و ریاست کو ان مذارات کا حصہ بنایا جائے اور اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں کی جائیں، ایمل ولی خان نے کہا کہ سوات میں پاکستانی پرچم لہرانے کا اعزاز اے این پی کو حاصل ہے اور موجودہ قوتوں کو اس کی تقلید کرنی چاہئے،ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر ڈیل کے تحت بیچ دیا گیا ہے، کٹھ پتلی وزیراعظم امریکی دورے میں ہونے والی تفصیل سے قوم کو آگاہ کریں،انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تقسیم کا فارمولہ مشرف نے پیش کیا تھا جس کی صرف عمران نیازی نے اس وقت حمایت کی تھی،،انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں،شملہ معاہدے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے ذریعے ممکن ہے، دنیا کو کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نوٹس لینا چاہئے،اپوزیشن تحریک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اے این پی آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہے اے پی سی بلا کر تمام جماعتوں کو اس میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پارٹی آئین کے کوئی بھی بالاتر نہیں، جو آئین کو بلڈوز کرے گا اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔
قبل ازیں ذرخیلہ سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کے حقوق پر سودے بازی سے ملنے والے اقتدار کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ باچا خان کے پیروکار کبھی دہشت گردی سے خوفزدہ نہیں ہو سکتے اور ہم پختونوں کے حقوق کیلئے ہمیشہ آواز اٹھاتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ملک میں جی رہے ہیں جس میں دہشت گردی کو منافع بخش کاروبار کی حیثیت حاصل ہے،جو ہم پر ڈالروں کا الزام لگاتے رہے وہ ماضی کے اوراق کا جائزہ لیں گزشتہ چالیس سال سے ہمارے خطے میں آگ و خون کا کھیل جاری ہے اور ڈالروں کے عوض پختونوں کو اس آگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہاگر پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کر لی جائے تو اسفندیار ولی خان آج وزیر اعظم بن سکتے ہیں ایمل خان نے کہا کہ سوات میں امن کے قیام کیلئے اے این پی کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،دہشت گردوں کو شکست دے کر یہاں امن قائم کرنے کے بعد دارالقضاء قائم کیا گیا، جبکہ سب سے زیادہ ترقیاتی کام بھی اے این پی کے دور میں ہوئے،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج جو لوگ سوات کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ اپنا وقت بنی گالہ کے کچن میں گزارتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک کے چار بڑے ستون یرغمال ہو چکے ہیں،میڈیا معاشرے کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں جن پر پٹی باندھ کر من پسند بیانیہ چلایا جا رہا ہے، جمہوریت پر شب خون مارا گیا،گذشتہ سال الیکشن میں 22کروڑ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر کٹھ پتلی کو مسلط کر دیا گیا،عدلیہ مفلوج کر دی گئی ہے اور وٹس ایپ پر ججز کو سماعت سے الگ کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کا ایک مضبوط ادارہ باقی اداروں میں مداخلت کی بجائے صرف دفاع پر توجہ دے تو تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔