پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی کی جانب سے پختونوں کے قائد اسفندیار ولی خان کے خلاف تضحیک آمیز الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترجمان موصوف پختون ہونے کے ناطے اس قسم کے الزامات کیسے لگا سکتا ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان وہ واحد لیڈر ہیں جن کے اپنے حجرے میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں ہم نے لاشیں اٹھائیں اور ان کی جماعت کے مرکزی رہنماؤں سے لے کر عام کارکنوں تک کے گھروں سے جنازے نکلے ہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے ایک ہزار سے زائد منتخب ممبران اسمبلی، عہدیداروں و کارکنوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جام شہادت نوش کیا لیکن موجودہ نالائق اور نااہل حکومت کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ ان تمام نقصانات کا اعتراف کر کے دہشت گردی کے تمام شہداء کے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھیں اس کے برعکس سلیکٹڈ حکمرانوں نے زخموں پر نمک پاشی کی، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں جتنا نقصان پختونوں اور سیاسی جماعتوں میں اے این پی نے اٹھایا ہے شوکت یوسفزئی اس کا ادراک بھی نہیں کر سکتے،لہٰذا انہیں یہ جرأت کس طرح ہو سکتی ہے کہ وہ ہمدردی کی بجائے الزامات پر اتر آئیں، سردار حسین بابک نے استفسار کیا کہ ترجمان کے الزامات ان کی پختون ولی کے عکاس ہیں یا پختونوں کے ساتھ دشمنی کے؟انہوں نے کہا کہ صوبائی ترجمان کو یاد ہونا چاہیئے کہ دہشت گردوں نے اسلام آباد پر چڑھائی اور قبضہ کا اعلان کیا تھا تاہم اگر اسفندیار ولی خان اور ان کی جماعت کے ساتھیوں نے قربانیاں نہ دی ہوتیں تو ملک میں آج کوئی حکومت ہوتی نہ شوکت یوسفزئی وزیر،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے جتنا نقصان اے این پی کو پہنچایا، پختون قوم،پورا ملک اور دنیا بھر اس کی معترف ہے، شوکت یوسفزئی جتنا بھی ورد جاری رکھیں تاریخ کو تبدیل نہیں کر سکتے، دہشت گردی کے خلاف اے این پی کا کردار دنیا کے سامنے ہے اور اب پختون عوام کو گھٹیا الزامات سے ورغلایا نہیں جا سکتا،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت نے اخلاقیات اور روایات کا جنازہ نکال دیا ہے ان میں ذرہ بھر بھی اخلاقی جرأت ہوتی تو آج سیاست سے بالاتر ہو کر اسفندیار ولی خان اور ان کی جماعت کو قیام امن کیلئے قربانیاں دینے پر قومی ہیرو کا درجہ دیتے لیکن حکومتی وزراء کے رویے اور اسلوب پر افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ پختون عوام اپنے ہیروز کو نہ صرف پہچانتے ہیں بلکہ ان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور یہی ہماری فتح ہے،حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اسی بوکھلاہٹ کے عالم میں الزامات کی گردان میں لگی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنا قبلہ درست کرنا چاہئے نشہ میں مدہوش سلیکٹڈ حکومت اور اس کے وزراء بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں،ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی، اس سے قبل بھی کئی بار حکومتیں مسلط کی گئیں جن کا آج کوئی نام لیوا باقی نہیں رہا۔