پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ عوام تبدیلی سرکار کا جنازہ اٹھانے کیلئے بے تاب ہیں۔ تبدیلی سرکار نے عوام کو مایوس کیا ہے اور بے روزگاری و مہنگائی کی وجہ سے عوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ صوبائی حکومت پوسٹنگ، ٹرانسفر تک محدود ہوچکی ہے، مالی طور پر صوبہ دیوالیہ ہوچکا ہے، بدانتظامی عروج پر ہے اور صوبے کے تمام سرکاری ملازمین احتجاجوں پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسمبلی میں عددی اکثریت کی بنیاد پرمن پسند قوانین بنارہی ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ احتسابی ادارے حکومت کی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر خاموش تماشائی بنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی رائلٹی اور خالص منافع لینے میں ناکام ہے، مرکزی حکومت صوبے کو اپنا حصہ دینے کے موڈ میں نہیں۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ محکمہ صحت کے ملازمین کیساتھ ناروا رویہ اپنارکھا گیا ہے، اپنے جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور بھتہ کے کالز پرسردارحسین بابک نے کہا کہ صوبے میں بدامنی، بھتہ خوری اور دہشت گردوں کا صوبے کے طول و عرض میں کھلم کھلا عام لوگوں کو دھمکیاں دینا اور ان سے بھتے کا مطالبہ کرنا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی جانی و مالی تحفظ حاصل نہیں۔ افغانستان سے پختون تاجروں اور صاحب ثروت لوگوں کو دھمکی آمیز کالز کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے اور حکومت پاکستان کو افغانستان کے حکومت سے اس سلسلے میں سنجیدہ بات کرنی ہوگی اور اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے کیلئے حکومت کو تماشائی کا نہیں عملی کردار ادا کرنا ہوگا