پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام ضم اضلاع بیٹھک میں تمام شرکاء نے مطالبہ کیا ہے کہ انضمام کے بعد مقامی عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں، بے گھر افراد کی فوری اور باعزت بحالی یقینی بنائی جائے اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 100ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں۔باچاخان مرکز پشاور میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی زیرصدارت منعقدہ ضم اضلاع بیٹھک میں جماعت اسلامی،جمعیت علمائے اسلام (ف) ،قومی وطن پارٹی، پختون تحفظ موومنٹ،نیشنل پارٹی پختونخوا وحدت،مزدورکسان پارٹی،ضم اضلاع کے طلباء تنظیموں، وکلائ، عمائدین، زعماء اور صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے شرکت کی۔ کانفرنس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں حکومت اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبہ بھر اور بالخصوص ضم اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے۔ ترقیاتی کاموں اور انتظامی معاملات کے اختیارات سول انتظامیہ اور منتخب اراکین کے سپرد کیے جائیں۔ دس سال تک ٹیکس سے استثنیٰ اور معاہدے کے مطابق 22ہزار خاصہ داروں کی بھرتی کا عمل یقینی بنایا جائے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستے کھول دیے جائیں، پشتونوں کی معاشی مضبوطی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، لاپتہ افراد کی تفصیل جمع کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے۔ ضم اضلاع میں دوبارہ مردم شماری اور فارم میں قومیت کا خانہ بحال کیا جائے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ لینڈ مائنز کی صفائی کا عمل یقینی بنایا جائے، گڈ اور بیڈ طالبان کی تفریق ختم کی جائے۔ کانفرنس میں شرکاء نے منرل ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقامی وسائل پر مقامی افراد کا حق تسلیم کیا جائے۔ ضم اضلاع میں فوری طور پر موبائل سروس، تھری جی اور فوری سروس بھی فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ چیک پوسٹس ختم کی جائیں اور سیاسی نوجوانوں کے خلاف کریک ڈائون، مقدموں سے گریز کیا جائے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ باڑہ انڈسٹریل زون کو بحال کیا جائے اور ہر ضلع میں انڈسٹریل زون قائم کی جائے۔ لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزڈ کیا جائے اور ضم اضلاع کے لئے مختص نشستوں پر عملدرآمد اور سکالرشپس کی بحالی کو یقینی بنائی جائے۔ تعلیمی اداروں بالخصوص جامعات میں پشتون طلباء کے ساتھ امتیازی رویہ ترک کیا جائے۔ ضم اضلاع پر ایک اور پراکسی وار کی اجازت نہیں دی جائیگی، بدامنی کو ذریعہ آمدن بنانا بند کیا جائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پختونوں کی سیاست، پختونولی، ثقافت، جرگہ اور مسجدمیں مداخلت بند کی جائے۔ کانفرنس کے آخر میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں ہر جماعت یا تحریک سے دو دو اراکین شامل ہوں گے۔ کمیٹی مشترکہ اعلامیے کے سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔