پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کی تقدیر بدلنے کا دعوی کرنے والے کپتان کے اپنے بچے لندن کے محلات میں پل رہے ہیں، سلیکٹڈ وزیر اعظم قوم و ملک سے مخلص ہیں تو پہلے اپنی اولاد کو پاکستان لا کر وزیرستان کے پہاڑوں میں رکھیں،ٹرمپ کا افغانستان بارے بیان خطے میں آگ لگانے کے مترادف ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں یوم سیاہ کے موقع پر متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان، قومی وطن پارٹی کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاو، پیپلزپارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نیئربخاری اور مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال، سینیٹر مشاہد اللہ خان،نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر مختار باچہ، سمیت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر مختیاریوسفزئی بھی موجود تھے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مجھ پر دبئی اور ملائشیا میں ہوٹل اور جائیدادیں بنانے کا الزام لگانے والے کپتان کو چیلنج کرتا ہوں کہ میرے ساتھ قرآن پاک پر حلف اٹھائیں کہ کس کے اثاثوں اور وراثت میں اضافہ ہوا، میرے بیرون ملک اثاثے ثابت ہو جائیں تو مجھے پھانسی دے دیں،انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ناکام ثابت ہوا، ٹرمپ کے بیان سے کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے، انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان پر کوئی آنچ آئی تو اس کے منفی اثرات صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے، انہوں نے کہا کہ پرامن اور مترقی پاکستان کیلئے پرامن اور مترقی افغانستان ضروری ہے، دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 25جولائی کو عوامی رائے پر ڈاکہ ڈال کر ایک کٹھ پتلی کو 22کروڑ عوام پر مسلط کر دیا گیا،انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والے تبدیلی لے کر آئے اور تبدیلی کا پاکستان پرانے پاکستان کے مقابلے میں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو ہی تبدیلی کہا جاتا ہے، حالیہ بجٹ سے ہونے والی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے 70سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے، عوام دشمن حکمرانوں نے جینے کا حق چھین کر لوگوں کو خود کشیوں پر مجبور کر رکھا ہے، انہوں نے کہا کہ جب غریب کو روٹی نہیں ملتی تو وہ آئینی و غیر آئینی،قانونی و غیر قانونی کی تفریق بھول جاتا ہے، متحدہ اپوزیشن کو اقتدار کا لالچ نہیں ہم صرف عوامی رائے کے احترام کیلئے ایک پیج پر ہیں، اسفندیار ولی خان نے مطالبہ کیا کہ ملک میں حقیقی جمہوری اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں اور عوام جسے منتخب کریں انہیں اقتدار حوالے کر دیا جائے، انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاجی جلسہ عام قوم کیلئے بارش کا پہلا قطرہ ہے، جس دن متحدہ اپوزیشن نے اسلام آباد کیلئے کال دی حکمرانوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، انہوں نے کہا کہ سپیکر نے سلیکٹڈ کا لفظ بولنے پر پابندی لگائی ہے لیکن اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہو جائے ملک کا وزیر اعظم سلیکٹڈ ہے اور ہم اسے سلیکٹڈ کہتے رہیں گے، انہوں نے کہا کہ آج ملک کا ہر شہری اور ہر تاجر پریشان ہے، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ملک میں احتساب کا عجیب نظام چل رہا ہے، نواز شریف کے بچے اور آصف زرداری کی بہن جے آئی ٹی میں پیش ہو رہے ہیں جبکہ سلیکٹڈ کی باجی سلائی مشینوں سے ارب پتی بننے کے باوجود احتساب سے مبرا ہے، انہوں نے کہا کہ عوام کو پانچ مرغیوں کا فارمولہ دے کر کپتان کی بہنیں سلائی مشینوں سے ارب پتی بن گئیں، انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گرفتاری محض انتقامی کارروائی ہے، حکومت بوکھلاہٹ میں سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹا کر اپنے لئے گڑھا کھود رہی ہے، ہم نے ہمیشہ سے بدترین آمریت کا مقابلہ کیا ہے موجودہ حکمرانوں کی کوئی حیثیت نہیں،انہوں نے کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں تعمیر و بحالی کا کام شروع نہیں ہو سکے، لوگوں کے گھر بار تباہ ہو چکے ہیں لیکن سلیکٹڈ وزیر اعظم سستے گھر اسلام آباد اور پنجاب میں بنا رہے ہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان ملکی سیاست میں بدقسمت اضافہ ہے جس نے سیاست سے شائستگی ختم کر کے گالم گلوچ کو فروغ دیا،انہوں نے کہا کہ عوام اپنا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے باہمی اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں۔