پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سی پیک پر ہمارے تحفظات ہیں اور چاہتے ہیں کہ مغربی کاریڈور پہلے بنائی جائے کیونکہ اگر سارے پاکستان کو ترقی دینی ہے تو یہ ہمارا خطہ بھی پاکستان کا حصہ ہے ‘ لیکن پھربھی عوامی نیشنل پارٹی اس کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی اور امریکہ کی بدمعاشی تسلیم نہیںکی جائیگی’ یہ ہمارا ملک ہے اور اس میں ہم وہی کام کرینگے جو ملک کی ترقی کا باعث ہوگا’ یہ سی پیک ضرور بنے گا ہم امریکہ کی مرضی پرنہیں چلیںگے’ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیں ڈکٹیشن نہ دے ‘ پاکستان کسی کے خوف سے چین کے ساتھ تعلقات خراب نہ کرے اور چین بھی منصوبے سے پیچھے نہ ہٹے اور مغربی روٹ سمیت اس کو جلد مکمل کیا جائے ‘ پی پی کے سابق ضلعی صدر میاں یحییٰ شاہ کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پرنوشہرہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجود حکومت کے وزیروں کی نااہلی نے اس مسئلے کو خراب کیا اورتمام معلومات امریکہ کے حوالہ کردیں جس سے چین کوتحفظات پیدا ہوئے’ ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ واقعہ سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے’ انہوں نے واقعے کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے دنیا کو پیغام دیاکہ کسی کے عقیدے کو نہ چھیڑا جائے’ ہم قرآن کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کرسکتے ‘ انہوں نے ناروے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میںملوث ملزموں کو جلد سے جلد قرارواقعی سزادی جائے۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ باربار یہ بتایا جاتا ہے کہ کشمیر کی وجہ سے حالات ٹھیک نہیں تو پھر کیوںکرتارپور راہداری کو کھولا گیا’ بھارتی باشندوں کو بغیر ویزے کی پاکستان آنے کی اجازت کیوں دی گئی’ ہندوستان سے جھگڑا بھی اور پیاربھی ‘ یہ عجیب مذاق ہے’ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا افغانستان بارڈر پر بھائی چارہ قائم نہیں ہونا چاہئے ‘ افغان بارڈر بھی کھلنا چاہئے تجارت بھی ہونی چاہئے ‘ اگر پاکستانی پنجاب کا مسلمان اور بھارتی پنجاب کا سکھ بھائی بھائی ہوسکتے ہیں تو پاکستان کامسلمان اور افغانستان کا مسلمان کیوں بھائی بھائی نہیں ہوسکتا’ آرمی چیف کے توسیع کے معاملے پر میاں افتخارحسین نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اس معاملے میں نااہلی ثابت کردی ہے ‘ وزیراعظم نے دوبارہ تقرری اورصدر نے توسیع کا آرڈرکیا ہے اس لئے جج نے حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آج گزارہ کرتاہوں ورنہ تمھیں گھربھیجتا یہ سب آزادی مارچ کا اثر ہے کہ عدلیہ نے حکومت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے 6ماہ میں قانون سازی کا حکم دیا ہے ۔رہبر کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم استعفیٰ دیں’دوبارہ انتخاب کرائے جائیں’ فوج کی مداخلت کے بغیر الیکشن ہوں اور آئین کی بالادستی ہو’ انہوں نے کہا کہ حکومت کوعدالت نے قانون سازی کے لئے 6 ماہ دیئے ہیں لیکن ہمارا نہیں خیال کہ یہ حکومت 3مہینے بھی مزیدچلے ‘ اس سے سہارے چھن رہے ہیں’ یہ حکومت جلد جانے والی ہے’ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی نااہلی دیکھئے کہ اس نے پرانی پارٹیوں سے لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا ہے’ انہوں نے کہا کہ عمران نے کبھی سچ نہیں بولا’ پھر بھی ہماری عدلیہ نے اسے صادق و امین کہا’ اقتدار میں آنے سے قبل عمران نے کہا تھا کہ پرویزمشرف نے ملک کو تباہ کردیا ہے لیکن نوازشریف نے اسے این او سی دیامیں برسراقتدار آکر اس سے حساب لوںگا اب جب مشرف پھنس گئے تو یہ حکومت اس کی حمایت میں کود پڑی ۔یحییٰ شاہ کاکاخیل کوباچا خان کے قافلے میں شمولیت پر مبارکباد یتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے موقع پراے این پی میں شمولیت کر رہے ہیں کہ ملک میں تاریخی واقعات ہورہے ہیں ‘انہوں نے ایک دفعہ پھر کہا کہ حکومت جلد جانے والی ہے ‘ اگر چہ مولانا فضل الرحمان صحیح احوال نہیں بتاتے لیکن کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ جنوری میں حکومت ختم ہوجائے’ چلو جنوری نہیں فروری میں ہی سہی ‘ انہوں نے مزید کہا کہ فوج ‘عدلیہ اورمیڈیا سب ہمارے لئے محترم ہیں اورپارلیمنٹ ان میں سپریم ہے ‘ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کر ینگے تو ملک چلے گا’ انہوں نے کہا کہ اے این پی کے ساتھ عوام کی ہمدریاں بڑھ گئی ہیں آئندہ انتخابات میں ہماری پارٹی کلین سویپ کرے گی اور ہماری حکومت آئے گی