2019 October شوکت یوسفزئی کو اگر سیاست نہیں آتی تو گھر بیٹھ کر فارمیسیوں اور اخبارات کا حساب کتاب کیا کریں،زاہد خان

شوکت یوسفزئی کو اگر سیاست نہیں آتی تو گھر بیٹھ کر فارمیسیوں اور اخبارات کا حساب کتاب کیا کریں،زاہد خان

شوکت یوسفزئی کو اگر سیاست نہیں آتی تو گھر بیٹھ کر فارمیسیوں اور اخبارات کا حساب کتاب کیا کریں،زاہد خان

پشاور( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ صوبائی وزیراطلاعات سیاسی قائدین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے حدود میں رہے،شانگلہ کے عوام سے پرسوں پشاور بھاگنے میں کامیاب ہونے والا شوکت یوسفزئی جب کیمروں کے سامنے آتا ہے تو اپنی ماضی کو بھول کر سیاسی قائدین کو غیر سیاسی طرز گفتگو کے ذریعے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جس سے تاثر ملتا ہے کہ صوبائی وزیراطلاعات سیاسی اختلاف کی بجائے کسی سے ذاتی رنجش رکھتا ہو۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں مرکزی ترجمان زاہد خان نے کہا کہ شوکت یوسفزئی کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ سلیکٹڈ ہیں اور کچھ ہی دنوں میں اُس کی وزارت جانے والی ہے،وزارت جانے کے بعد وہ کس طرح پختون معاشرے میں کسی سے آنکھ ملائے گا کیونکہ سیاسی قائدین پر تنقید کرتے وقت شوکت یوسفزئی ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے سیاسی قائدین سے اُس کا اختلاف سیاسی نہیں ذاتی ہے،زاہد خان نے کہا کہ اگر خوامخوا شوکت یوسفزئی سیاسی اختلاف کو ذاتی اختلاف کا رنگ دینا چاہتے ہیں تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ پرسوں اُس کو شانگلہ میں پناہ نہیں مل رہی تھی،وزارت جانے کے بعد اُس کو پورے صوبے میں جگہ نہیں ملی گی،زاہد خان نے کہا کہ شانگلہ میں اے این پی کارکنان کے اتحاد سے ایم پی اے بننے والا شوکت یوسفزئی بہت جلد اپنی ماضی بھول جاتا ہے،پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت میں کرپشن پر نکالے گئے شوکت یوسفزئی کس منہ سے سیاسی قائدین اور بالخصوص پختونوں کے لیڈر اسفندیار ولی خان پر تنقید کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ شوکت یوسفزئی ایسے الزامات لگاتا ہے جس کے نہ پیر ہوتے ہیں نہ سر،شاید موصوف بھول گئے ہیں کہ الزامات لگانے پر اسفندیار ولی خان نے جب قانونی نوٹس بھیجا تو اپنے لیڈر کی طرح اسے بھی الزامات سے یوٹرن لینا پڑا،شوکت یوسفزئی کی یہی اصلیت اور ماضی ہے۔ اے این پی کے مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ وزیرموصوف کو سیاست نہیں آتی تو گھر بیٹھ کر فارمیسیوں اور اپنے اخبار کا حساب کتاب کیا کریں، سیاست ان کے بس کی بات نہیں۔ تحریک انصاف کے آنے کے بعد سیاست سے شائستگی ختم ہوچکی ہے لیکن ہم کبھی بھی اخلاق کے دائرہ سے باہر نکل کر بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسفندیارولی خان یا اے این پی کے دیگر رہنمائوں کے خلاف کسی بھی طرح کی نازیبا گفتگو کی گئی تو عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان ردعمل کا حق محفوظ رکھتے ہیں

شیئر کریں