جنوبی وزیرستان کی سات لاکھ آبادی مقدموں کیلئے 200کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی جو کسی بھی صورت قبول نہیں

انضمام کے بعد آئین پاکستان کی توسیع ہوچکی ہے،حکومت اصلاحات کے نفاذ میں سنجیدہ نہیں

موجودہ فیصلہ عوام کو ریلیف نہیں بلکہ مزید تکلیف میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے

اے این پی نئے اضلاع کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اس فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر برائے ضم شدہ اضلاع شاہی خان شیرانی نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کیلئے جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح 200کلومیٹر دور ضلع ٹانک میں کرنا افسوسناک امر ہے۔ سات لاکھ آبادی عدالتی کارروائی کیلئے دور دراز علاقہ ٹانک تک کا سفر طے کرے گی جو کسی بھی صورت قبول نہیں، انضمام کے بعد پاکستان کے آئین کی تمام شقوں کی توسیع نئے اضلاع تک ہوچکی ہیں لیکن بدقسمتی سے موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اصلاحات کے نفاذ میں سنجیدہ نہیں۔6619مربع کلومیٹر پر مشتمل ضلع جنوبی وزیرستان میں بسنے والے لوگ صرف دفعہ 107کیلئے بھی ضلع ٹانک تک کا طویل سفر طے کریں گے جو کسی بھی صورت ریلیف نہیں بلکہ عوام کو مزید تکلیف میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔ شاہی خان شیرانی نے کہا ہے کہ اے این پی جنوبی وزیرستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اس افسوسناک فیصلے کی مذمت کرتی ہے، ہم تمام اداروں کے ضلعی دفاترو مراکز نئے اضلاع کے ہیڈکوارٹرز میں بنانے کا اصولی اور آئینی مطالبہ کرتے ہیں۔حکومت اس فیصلے پر جلدازجلد نظرثانی کرے تاکہ عوام کو ریلیف دی جاسکے۔ عوامی نیشنل پارٹی ہر فورم پر جنوبی وزیرستان اور تمام نئے اضلاع کیلئے آواز اٹھاتی رہے گی