2019 October تبدیلی سرکار میں یونیورسٹیوں کی انتظامی و مالی حالت بدتر ہوچکی ہے،سردارحسین بابک

تبدیلی سرکار میں یونیورسٹیوں کی انتظامی و مالی حالت بدتر ہوچکی ہے،سردارحسین بابک

تبدیلی سرکار میں یونیورسٹیوں کی انتظامی و مالی حالت بدتر ہوچکی ہے،سردارحسین بابک

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک نے کہا ہے کہ صوبہ بھر کی جامعات مالی بحران اور انتظامی بدحالی کا شکار ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور بے جا مداخلت کی وجہ سے یونیورسٹیوں کی انتظامی حالات ابتر ہوچکے ہیںاور مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئے روز فیسوں میں اضافے نے طلباء و طالبات کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے، بیشتر یونیورسٹیاں وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کے بغیر چلائی جارہی ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بیشتر جامعات میں صوبے سے باہر کے وائس چانسلرز کی تعیناتی اقرباء پروری اور سیاسی مداخلت کا کھلا ثبوت ہے۔ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تعلیم کو اپنی ترجیحات سے باہر پھینک دیا ہے اور صوبے کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی بے جا مداخلت،اقرباپروری اور میرٹ پالیسی کو پامال کردیا گیا ہے جس سے صوبے کے کالجزاور یونیورسٹیوں کی حالت دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو فنڈز فراہمی کی بجائے اپنے رشتہ داروں یا سفارشی لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرکے ان اداروں کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذمہ دار منصب عرصہ دراز سے خالی آرہے ہیں جس سے تعلیمی ماحول پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں

شیئر کریں