2019 October معیشت بہتر بنانے کے دعویدار زندہ ہیں کہ کہیں خودکشی کر لی ہے،سردار حسین بابک

معیشت بہتر بنانے کے دعویدار زندہ ہیں کہ کہیں خودکشی کر لی ہے،سردار حسین بابک

معیشت بہتر بنانے کے دعویدار زندہ ہیں کہ کہیں خودکشی کر لی ہے،سردار حسین بابک

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبے کے خزانے کی یہ حالت ہے کہ پورے صوبے میں آئے روز نئے ٹیکسسز لگائے جارہے ہیں،پرانے ٹیکسسز میں اضافہ کیا جارہا ہے لیکن اُس کے باوجود ترقی کا عمل روک دیا گیا ہے،لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نہ صرف سڑکیں تعمیر کررہے ہیں بلکہ ٹرانسفارمرز بھی چندوں پر مرمت کیے جارہے ہیں، اے این پی تبدیلی سرکار سے پوچھنا چاہتی ہے کہ نوے دن میں ملک کی معیشت بہتر بنانے کے دعویدار آج زندہ بھی ہیں کہ حکومت ملنے کے بعد کہیں انہوں نے خودکشی تو نہیں کی؟ بونیر دیوانہ بابا اور بٹاڑہ یونین کونسلز میں کارنر میٹنگز اور شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ میڈیا کوریج کی وجہ سے نوجوان عمران خان کو حقیقت میں ہی آخری امید سمجھ بیٹھے تھے کیونکہ مخصوص میڈیا ہاوسسز نے پچھلے چھ سالوں سے یہ کردار ادا کیا ہے کہ دیگر سیاسی قائدین کو نوجوانوں کی نظر میں قومی مجرم اور کرپٹ دکھایا گیا اور عمران خان کو صادق اور امین کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ مضبوط فیڈریشن کی بات کرنے والا یوٹرن ماسٹر پختون سرزمین پر کھڑے ہوکر پختونوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ وفاق اس پوزیشن میں نہیں کہ پختونخوا کو بجلی کا خالص منافع دے سکیں،اے این پی پوچھنا چاہتی ہے کہ وزیراعظم کس طرح صوبہ خیبرپختونخوا کو آئینی حق نہ دینے کی بات کرتا ہے،انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے وفاق خیبرپختونخوا کا بجلی کی مد میں 500ارب روپے کا مقروض ہے،بجلی کا خالص منافع نہ ملنے کی وجہ سے آج خیبرپختونخوا کی حالت یہ ہے سرکاری خزانے میں سرکار کے پاس لوگوں کو تنخواہ دینے کے فنڈز بھی نہیں۔سردار حسین بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اس شرط پر حکومت دی گئی ہے کہ وہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم کریں،جب اُس کا بس اٹھارویں آئینی ترمیم پر نہیں چلا تو اب صوبوں کے وسائل ہڑپ کرنے کی باتیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی ہرگز اپنے اس نعرے سے دستبردار نہیں ہوگی کہ جو صوبہ جو وسائل پیدا کررہا ہے اُس پر پہلا حق اُسی صوبے کا ہے،اے این پی ہرگز یہ برداشت نہیں کریگی کہ گیس،بجلی پیدا کرنے والا صوبہ خود ہی گیس اور بجلی سے محروم ہو۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا معدنیات کے حوالے سے خود کفیل ہے،آج مختلف ناموں کے ساتھ سامراجی قوتیں خیبرپختونخوا میں برسرپیکار ہیں،ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پختون سرزمین پر موجود معدنیات کو ہاتھ لگایا گیا تو اے این پی کسی صورت خاموش نہیں رہے گی،اے این پی نے اٹھارواں آئینی ترمیم صرف اسی خاطر منظور کرایا تھا کہ صوبوں کا اپنے معدنیات پر حق برقرار رہے،آج مختلف طریقوں سے اُن معدنیات پر قبضے کی باتیں ہورہی ہیں۔سردار حسین بابک نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا سے جڑے کاروباری راستے کھول دیے جائیں،ہندوستان کے راستے حالت جنگ میں بھی بند نہیں کیے جاتے لیکن صرف اُنہی راستوں کو مختلف حیلے بہانوں سے بند کیا جاتا ہے جن کا فائدہ پختونوں کو ہو

شیئر کریں