لکی مروت(نمائندہ شہباز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان صدرالدین مروت نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے آزادی مارچ کے کارکنوں پر تشدد کیا یا انہیں روکا تو اسفندیار ولی خان کے حکم پر اے این پی کے کارکن موجودہ حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریگی اور اگر مولانا اپنے کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گیا تو اسفندیار ولی خان اپنے تمام کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد جائیں گے اور اگر مولانا کو نظر بند یا گرفتار کیا گیا تو اسفندیار ولی خان احتجاج کی قیادت کرینگے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی ہدایت پر لکی مروت کا 6 روزہ دورہ مکمل کرنے اور ضلع کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔اس موقع پرضلعی جنرل سیکرٹری فرمان اللہ گنڈی جابوخیل،نائب صدرممریزخان اورتحصیل لکی کے صدرحاجی حمیداللہ بھی موجودتھے انہوں نے کہا کہ اے این پی لکی مروت نے اسفندیار ولی خان اور ایمل ولی خان کی ہدایت پر مرحلہ وار عمل کرنے کا لائحہ عمل طے کر کے تیاریاں شروع کرلی ہیں صدرالدین مروت نے کہاکہ حالات کا تقاضا ہے کہ عوام ملک کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے آزادی مارچ میں فیصلہ کن کردار ادا کرینگے کیونکہ روزانہ ٹیکسوں کے نفاذ اور عوام کو مہنگائی کی صورت میں فاقہ کشی پر مجبور کرنے کے باوجود معیشت سنبھل نہیں رہی۔ملک دیوالیہ ہونے جارہاہے تاجر، مزدور، ڈاکٹرز، اساتذہ،طلبہ اور طالبات پریشان ہیں۔موجودہ جعلی اور نا اہل حکومت فوری طور پر مستعفی ہو کر ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کرائے جائیں تاکہ ملک تباہی سے بچ سکے ورنہ ملک کو خانہ جنگی سے نہیں بچایاجاسکے گا۔صدرالدین مروت نے کہا کہ ملک میں بد ترین مارشل لا نافذ ہے،الیکشن کمیشن،نیب،میڈیا سمیت تمام ادارے غلام ہیں،نا کام خارجہ پالیسی کی وجہ سے تمام ہمسایوں کو ناراض کیا گیا ہے،مگر سلیکٹڈ وزیراعظم اپنی نا اہلی چھپانے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کیلئے روز اول سے ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ چوروں کو نہیں چھوڑونگا حالانکہ ملک کے تمام چور پی ٹی آئی میں جمع کرلئے ہیں،انہوں نے کہا کہ یوٹرن خان کا آخری وقت آپہنچاہے اور وہ آزادی مارچ شروع ہونے سے قبل حالت نزع میں ہے اور بہت جلد اس سے چھٹکارے کی خوشخبری سنیں گے