2019 October شہباز شریف سمیت تمام قائدین کو اسفندیار ولی خان کے پختون ولی کے جذبے کی قدر کرنی چاہیے،میاں افتخار حسین

شہباز شریف سمیت تمام قائدین کو اسفندیار ولی خان کے پختون ولی کے جذبے کی قدر کرنی چاہیے،میاں افتخار حسین

شہباز شریف سمیت تمام قائدین کو اسفندیار ولی خان کے پختون ولی کے جذبے کی قدر کرنی چاہیے،میاں افتخار حسین

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی جانب سے آزادی مارچ کے کمانڈ کے طور پر اسفندیار ولی خان کے نام پر اختلاف رکھنے کے خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسفندیار ولی خان نے پختون روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا صاحب کو یہ آفر کی تھی کہ اگر آپ گرفتار ہوتے ہیں تو میں مارچ کی قیادت خود کرونگا،جسے مولانا صاحب نے شکریہ کے ساتھ تسلیم کرلیا تھا، اس پر اعتراض کے بجائے تمام سیاسی قائدین کو اس جراتمندانہ اقدام پر اسفندیار ولی خان کا مشکور ہونا چاہیے۔باچا خان مرکز پشاور سے شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے ملاقات کی اندرونی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اُن کو ٹی وی کے ذریعے پتہ چلا کہ مولانا صاحب اور شہباز کی ملاقات میں شہباز شریف نے اعتراض اُٹھایا ہے کہ آزادی مارچ کا کمانڈ مولانا صاحب نے اپنے بعد اسفندیار خان کو کیوں دیا ہے؟شہباز شریف کے اس سوال پر ردعمل دیتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ مولانا صاحب اور اسفندیار ولی خان کی ملاقات میں اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان نے خود مولانا صاحب کو پختون روایات کے مطابق یہ آفر کی تھی کہ جے یو آئی قائدین کی گرفتاری کی صورت میں مارچ کی قیادت وہ خود کرینگے،اسفندیار ولی خان کا یہ اعلان غیرت کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے،شہباز شریف سمیت تمام قائدین کو اسفندیار ولی خان کے اس جذبے کی قدر کرنی چاہیے،کیو نکہ اسفندیار ولی خان کے اعلان کے بعد تمام سیاسی قوتوں نے اس اعلان کو سراہا۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ یہ ہماری روایات ہیں کہ جب ساتھی پر برا وقت آتا ہے تو ڈٹ کر اُن کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے،یہ ہمارے سیاسی روایات رہے ہیں کہ ہم نے سیاسی اتحادوں میں ہمیشہ موثر کردار اداکیا ہے،اسفندیار ولی خان نے اسی جذبے کے تحت مولانا صاحب کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے اگر یہی جذبہ کسی اور لیڈر میں ہو تو اے این پی اُن کو خوش آمدی کہیگی۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ ایسے اتحادوں میں سیاسی قیادت کو یکجا رکھنے کی کوشش کی ہے،اے این پی کا ہر قدم اپوزیشن کے اتحاد اور اتفاق کیلئے ہوگا،اے این پی کبھی اپوزیشن پارٹیوں میں تقسیم کی نہ حمایت کریگی اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اُٹھائے گی جس سے اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ پڑے۔میاں افتخار حسین نے پیمرا کی جانب سے مولانا صاحب کے لائیو پریس کانفرنسسز اور تقاریر پر پابندی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا ایسے غیر قانونی احکامات جاری نہیں کرسکتا کیونکہ اسلام آباد دھرنے میں عمران خان کو 24,24گھنٹے کوریج دینے والا میڈیا آج مولانا صاحب سمیت قومی لیڈران کو کوریج نہیں دے رہا،میڈیا کا یہ کردار ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ میڈیا کو ایسا غلام رکھنا ملک اور قوم کے ساتھ ظلم ہے،یہ وقت ہے کہ میڈیا مالکان بھی اس وقت آسانی سے سرینڈر نہ کریں کیونکہ کل کو اُن کیلئے بھی مشکلات پیدا ہونگی۔

شیئر کریں