پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انگریزوں نے پختونوں کو تعلیم سے دور رکھا تھا تاکہ وہ آزادی کا شعور حاصل نہ کرسکے،اگر پختون تعلیم حاصل کرلیتے تو بہت پہلے آزادی حاصل کرسکتے تھے،جب باچا خان نے آزاد مدارس قائم کیے تو اُن مدارس سے پختونوں کو دور کرنے کیلئے طرح طرح کے پروپیگنڈے کیے گئے،اسی طرح ہماری بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنے کیلئے آج تک طرح طرح کی باتیں ہوتی ہے،نوشہرہ میں نجی کالج کے تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر باپ تعلیم یافتہ ہو تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہے اگر ماں تعلیم یافتہ ہو تو پورا معاشرہ تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔تعلیم ہمیں آزادی کا شعور،نیکی اور بدی میں تفریق اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔اسلام نے بھی ہم پر تعلیم فرض کیا ہے لیکن ایک ایجنڈے کے تحت ہمیں تعلیم سے دور رکھا گیا،یہاں تک کہ آج بھی اُسی ایجنڈے پر پختون دشمن قوتیں عمل پیرا ہیں اور آج بھی ہمارے بچوں کے سکولوں کو بموں سے اُڑایا جارہا ہے۔اے پی ایس پر حملہ کیوں کیا گیا تھا؟کیونکہ یہ بچے کل جاکر پختون عالم بنتے اور پختون دشمنوں کو پختون عالم بالکل پسند نہیں ہے،ان کو پختون چپڑاسی کے طور پر پسند ہیں،ان کو پختون چوکیدار چاہیے لیکن پختون دشمن کسی طور پر بھی پختون افسر کو ایک مقام پر دیکھنا پسند نہیں کرتے۔میرا اپنا اکلوتا بیٹا دہشتگردی کا شکار ہوا ہے،میرا وہ بچہ نہ سیاستدان تھا،نہ سیاست سے اُس کو کوئی سروکار تھا،اُس نے ایسا کیا کیا تھا کہ اُس کو نشانہ بنایا گیا؟میرا کوئی گناہ نہیں تھا تو اُس کا کیا گناہ ہوتا؟میرا قصور صرف اتنا تھا کہ جب بم دھماکہ ہوتا تو میں شہیدوں کیلئے کفن اور زخمیوں کے علاج کا انتظام کرتا تھا،دہشتگردوں کو میری یہ ادا پسند نہیں تھی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ میں دہشتگردی کے خلاف چپ رہوں لیکن میں ایک نظریے کے بنیاد پر یہ جنگ لڑ رہا تھا اور میں آج بھی کھل کر کہتا ہوں کہ اگر دہشتگرد میرے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیں تو میں اپنی مٹی کی بقاء کی جنگ لڑوں گا۔جو ڈرتے ہیں وہ ہر روز مرتے ہیں جو نہیں ڈرتے وہ ایک بار مرتے ہیں۔ہمیں بہت طعنے بھی ملتے تھے کہ اے این پی نے پختون قوم پر پرائی جنگ مسلط کی تھی لیکن اُن قوتوں سے کوئی بھی نہیں پوچھتا جنہوں نے ہم سے پہلے پورے صوبے میں دہشتگردوں کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی،اگر اے این پی دہشتگردوں کا مقابلہ نہ کرتی تو آج نہ یہ سکول ہوتا اور نہ ہی یہ تقریب تقسیم انعامات ہوتا،ہم نے جانوں کی قربانی دی تب جاکر یہاں پر امن قائم ہوا اور آج لوگ جی بھی رہے ہیں اور حکومتیں بھی کررہے ہیں۔ہمیں اپنے محسنین کا سیاسی وابسطگیوں سے بالاتر ہوکرشکرگزار ہونا پڑے گا تب جاکر ہم اس قابل ہونگے کہ من حیث القوم ترقی کرسکے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر توجہوں بہت ضروری ہے،والدین بچوں کو ہرگز غیر نصابی سرگرمیوں سے منع نہ کریں کیونکہ تعلیم تب ہی انسان کو کامیاب بنا سکتی ہے جب بچے جسمانی طور پر ٹھیک ہو۔ہمیں اپنے بچوں کو بلاتفریق تعلیم دینی ہوگی،اگر ہم یہ دیکھیں گے کہ لڑکوں کو تعلیم دینی ہے اور بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنا ہے تو یہ ہم اپنے معاشرے کے ساتھ ظلم کررہے ہیں