پشاور(جنرل رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ اصولی طور پر اے این پی جے یو آئی کے مارچ کی حمایتی ہے،البتہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر تکنیکی طور پر اختلاف کیا جاسکتا ہے،مولانا فضل الرحمان حکومت کے خاتمے کی باتیں کررہا ہے،ہم بھی مسائل کا حل نئے انتخابات کو سمجھتے ہیں۔نوشہرہ میں پارٹی تنظیموں سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا ہم اس موجودہ حکومت کے روز اول سے مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ عوام کے منتخب کردہ نہیں بلکہ سلیکٹڈ ہیں،مولانا فضل الرحمان نے مارچ کا اعلان کردیا ہے،اے این پی اصولی طور پر اُس کی حمایت کرتی ہے۔انہوں نے وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی تقریر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کے دوران ایٹم بم کے استعمال پر گفتگو نے خطے کے امن کیلئے نیا خطرہ پیدا کیا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر پابندیوں کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ایٹم بم کی موجودگی کو پہلے سے ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے کہ یہ محفوظ ہاتھوں میں نہیں، عمران خان کی تقریر خطے کے امن کو ایک بار پھر خطرناک طرف لے جانے کی کوشش ہے۔ اگر کوئی اس تقریر کو کوئی استعمال کرنا چاہتا ہے یا تعریف کرتے نہیں تھکتے، انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ اس قسم کی تقریروں سے نقصان انسانیت کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے سچ بولا بھی تو وہاں جہاں کشمیر کا مقدمہ لڑنا تھا،دہشت گردی کے فروغ کو غلط پلیٹ فارم پر مانا گیا۔ سلیکٹڈ وزیراعظم نے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مقدمہ ہار کر شکست قبول کرلی ہے۔ جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدہ کا حوالہ دینا تھا لیکن عمران خان نے جو باتیں کی وہ پاکستان اور اس خطے کے امن کیلئے خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے آزادی کی بجائے کشمیر میں کرفیو یا دوسری انسانی حقوق کی بات کرکے کشمیریوں کیساتھ زیادتی کی تھی۔ کشمیریوں کو ہر چیز سے پہلے آزادی چاہئیے جس کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں پہلے سے موجود ہیں۔مولانا فضل الرحمان کو مذہبی کارڈ کا طعنہ دینے والے نے بین الاقوامی سطح پر مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی۔ امت مسلمہ سے تعاون کے طلبگار عمران خان جان چکے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مسلمان ممالک نے بھارت کیخلاف پاکستان کے مؤقف کی حمایت سے انکار کردیا ہے جس کے بعد جذباتی طریقے سے پاکستان کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی افغان طالبان کے دورہ پاکستان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں لیکن امن کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔