2019 October سلیکٹڈ وزیراعظم کی تقریریں خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،میاں افتخارحسین

سلیکٹڈ وزیراعظم کی تقریریں خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،میاں افتخارحسین

سلیکٹڈ وزیراعظم کی تقریریں خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکی ہے،میاں افتخارحسین

پشاور(جنرل رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مقدمہ ہار کر شکست قبول کرلی ہے۔ جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدہ کا حوالہ دینا تھا لیکن عمران خان نے جو باتیں کی وہ پاکستان اور اس خطے کے امن کیلئے خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ باچاخان مرکز پشاور میں پروفیسر ڈاکٹراظہاراللہ اظہار کے کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے آزادی کی بجائے کشمیر میں کرفیو یا دوسری انسانی حقوق کی بات کرکے کشمیریوں کیساتھ زیادتی کی تھی۔ کشمیریوں کو ہر چیز سے پہلے آزادی چاہئیے جس کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں پہلے سے موجود ہیں۔مولانا فضل الرحمان کو مذہبی کارڈ کا طعنہ دینے والے نے بین الاقوامی سطح پر مذہبی کارڈ کھیلنے کی کوشش کی۔ امت مسلمہ سے تعاون کے طلبگار عمران خان جان چکے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مسلمان ممالک نے بھارت کیخلاف پاکستان کے مئوقف کی حمایت سے انکار کردیا ہے جس کے بعد جذباتی طریقے سے پاکستان کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کے دوران ایٹم بم کے استعمال پر گفتگو نے خطے کے امن کیلئے نیا خطرہ پیدا کیا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر پابندیوں کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ایٹم بم کی موجودگی کو پہلے سے ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے کہ یہ محفوظ ہاتھوں میں نہیں، عمران خان کی تقریر خطے کے امن کو ایک بار پھر خطرناک طرف لے جانے کی کوشش ہے۔ اگر کوئی اس تقریر کو کوئی استعمال کرنا چاہتا ہے یا تعریف کرتے نہیں تھکتے، انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ اس قسم کی تقریروں سے نقصان انسانیت کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے سچ بولا بھی تو وہاں جہاں کشمیر کا مقدمہ لڑنا تھا،دہشت گردی کے فروغ کو غلط پلیٹ فارم پر مانا گیا۔ افغان طالبان کے دورہ پاکستان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں لیکن امن کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے ساتھ گفتگو کے دوران دو باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا ایک یہ کہ افغانستان کی منتخب حکومت مذاکرات کا حصہ ہو اور دوسرا مذاکرات کے دوران سیزفائر کا اعلان کرنا ہوگا۔انہوں نے پروفیسر ڈاکٹراظہاراللہ اظہار کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا جہاد جہالت کے خلاف ہے اور رہے گا، کتاب کی اہمیت سے پہلے بھی انکار نہیں کیا گیا اور اب بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ادیب اور شاعر اس معاشرے کی آنکھ و کان ہیں، وہ جو دیکھتے ہیں وہی لکھتے ہیں اسلئے شعراء و ادباء کو معاشرے کے اصلاح اور خصوصاً امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

شیئر کریں