پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد مارچ سے پہلے اگر جے یو آئی کے قائدین کو گرفتار کیا جاتا ہے تو آزادی مارچ کی قیادت پھر اے این پی کریگی۔عوامی نیشنل پارٹی کسی صورت جمیعت علمائے اسلام کو اکیلے نہیں چھوڑی گی۔یہ اعلانات اسفندیار ولی خان نے ولی باغ چارسدہ میں جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان سے خصوصی ملاقات کے بعد پریس بریفننگ کرتے ہوئے کیے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے اے این پی کا موقف بہت واضح ہے،اے این پی دو مرحلوں میں مارچ کا حصہ بنے گی،پہلے مرحلے میں اگر سیاسی کارکنان پر تشدد ہوتا ہے تو صوبہ بھر میں اے این پی کارکنان نکلیں گے اور اے این پی صوبائی حکومت سے سیاسی کارکنان پر ہونے والے تشدد کا حساب لیں گی،اے این پی کیلئے دوسرا مرحلہ مارچ میں شمولیت کا یہ ہے کہ اگر مولانا صاحب اسلام آباد پہنچتے ہیں تو پھر اے این پی کارکنان میری قیادت میں مارچ کا بھرپور حصہ بنیں گے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اگر حکومت کا ارادہ یہ ہے کہ سیاسی کارکنان مارچ کا حصہ نہ بنیں یا ایک سیاسی پارٹی حکومت مخالف مارچ نہ کریں تو وہ کسی کو ایک جمہوری ملک میں قابل قبول نہیں ہوسکتا۔جو الفاظ سیاسی کارکنان کے حوالے سے صوبے کا وزیراعلیٰ اور وزیراطلاعات استعمال کررہے ہیں وہ سیاسی الفاظ نہیں ہے، خدا کریں کہ حکومت کو عقل نصیب ہو کہ وہ سیاسی کارکنان کے خلاف ری ایکشن نہ کریں،اگر ری ایکشن نہیں ہوتا تو ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد آگے بڑھے گی اور اگر ری ایکشن ہوتا ہے تو اُس کا ردعمل ضرور ہوگا اور ری ایکشن کے نتیجے میں جو ردعمل آئیگا وہ ایسا ہوگا کہ پھر وہ رد عمل کنٹرول کرنا احتجاج میں شامل سیاسی قائدین کے بس میں بھی نہیں ہوگا۔اے این پی لاٹھی چارج،آنسو گیس اور جیل کی عادی ہے،اگر حکومت ہمیں اس نہج پر لا کر کھڑا کر دیں تو یا بسم اللہ،ہم نے کسی صورت جے یو آئی کو اکیلے نہیں چھوڑنا۔ایک خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ 27اکتوبر سے پہلے جے یو آئی کے قائدین کو گرفتاری کی باتیں ہورہی ہے،اگر جے یو آئی کی قیادت کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پھر احتجاج کی قیادت اے این پی کریگی۔اس موقع پر جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی خدمت میں آزادی مارچ پر اُن کے تعاون اور شرکت پر شکریہ کیلئے حاضر ہوئے ہیں۔اطمینان کی بات یہ ہے کہ پورے پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور طبقات نے مارچ میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔مارچ کو روکنے کے حوالے سے جو باتیں ہورہی ہے اُس کی مثال ایسی ہے کہ سیلاب کے سامنے اگر آپ مُٹھی میں مٹی اُٹھا کر سمندر میں پھینکتے ہیں کہ پانی کا بہاو کم ہوجائیگا یہ خام خیالی ہے۔اے این پی اور جے یو آئی کی ایک تاریخ ہے کہ ہم نے مل کر آزادی اور پاکستان بننے کے بعد جمہوریت کی بحالی کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ہے۔آزادی مارچ کو روکنے کی باتیں بچگانہ ہیں یہ حکومتی وزراء اور حکومت کی غیر سیاسی سوچ کی عکاسی کررہا ہے۔حکومت کے منصب پر جب کوئی فائز ہوتا ہے تو وہ بہت احتیاط سے باتیں کرتا ہے۔حکومتی لوگ جسطرح ہماری تحریک کو اُٹھا رہی ہے ہم اُس پر اُن کا مشکور ہے۔ہمارا روز اول سے موقف ہے کہ 25جولائی کا الیکشن دھاندلی زدہ ہے۔اُس دھاندلی زدہ الیکشن کی نتیجے میں جو حکومت مسلط کردی گئی ہے آج یہ حالت ہے کہ مہنگائی نے غریب کا جینا حرام کردیا ہے،ملک داخلی اور خارجی سطح پر ناکام ہے،اس مسلط کردہ حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں 27اکتوبر کو میدان عمل میں ہوگی۔