پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کا آغاز کراچی سے ہوچکا ہے۔ 31اکتوبر کو اے این پی کارکنان مرکزی صدر اسفندیارولی خان کی قیادت میں رشکئی انٹرچینج سے روانہ ہوں گے، دیگر جمہوری جماعتوں کے ساتھ اے این پی کا بھی کردار ہے جو وہ ادا کرتی رہے گی۔ باچاخان مرکز میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ اے این پی بلوچستان کا قافلہ صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی کی قیادت میں روانہ ہوچکا ہے جبکہ پنجاب سے صوبائی صدر منظوراحمد خان کی قیادت میں کارکنان راولپنڈی پہنچیں گے۔اسی طرح اے این پی سندھ بھی مارچ کے آغاز سے مارچ کا حصہ بن چکی ہے۔ تمام کارکنان ایک ساتھ 31اکتوبر کو مرکزی صدر کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہوں گے اور سلیکٹڈ حکومت کو بتائیں گے کہ جمہوریت میں عوامی مفادات کے خلاف پالیسیاں تباہ کن ہیں۔ انہوںنے کارکنان کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں تاکہ 31اکتوبر کو بھرپور قوت کا مظاہرہ کریں۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی مارچ کی کامیابی کے ڈر سے مارچ میں رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف عمل ہے۔گرفتاریاں، پورے ملک کو کنٹینرز سے بند کرنے کی کوشش کی، ریت کی بوریاں بھی بھری گئیں، یہاں تک کہ کئی کنٹینرز کو بھی ریت سے بھرا گیا تاکہ سڑکوں کو بند کیا جاسکے، اسکے ساتھ ساتھ مارچ کو ناکام بنانے کیلئے پیمرا نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا لیکن آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے۔ حکومتی بوکھلاہٹ دیکھ عوام کو ایک بار پھر یقین ہوگیا کہ سلیکٹڈ حکومت ناکام ترین حکومت ہے۔ رہبرکمیٹی اور رحکومتی کمیٹی کے مابین مذاکرات بارے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا حکومتی ٹیم نے ان رابطوں کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ ابھی تک اس کی وضاحت کی ضرورت پیش نہیں آ ئی لیکن حکومت کی جانب سے بار بار غلط بیانی کے بعد ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ استعفے اور مطالبات کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا کیونکہ رہبر کمیٹی کے ساتھ صرف آزادی مارچ کے مقام پر بات ہوئی، مطالبات پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ ہم اب بھی اپنے مطالبات پر قائم ہیں، استعفے کے مطالبے سے کسی بھی طور پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے دوران پریڈ گرائونڈ کا آپشن دیا گیا جو حکومت کیلئے کنٹرول کرنا آسان تھا لیکن ہم نے واضح طور پر کمیٹی سے کہا کہ احتجاج سڑک پر ہوگا، حکومتی کمیٹی کی جانب سے استعفے اور مطالبات کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا کیونکہ رہبر کمیٹی کے ساتھ صرف آزادی مارچ کے مقام پر بات ہوئی، مطالبات پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ ہم اب بھی اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ حکومت آزادی مارچ کی کامیابی کے ڈر سے مان گئی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ جے یو آئی ف کی مقامی تنظیم اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہوا ہے، اس کا رہبر کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں،ڈی چوک ہو یا پشاور موڑ، ہمارے مطالبے عوامی طاقت کے ذریعے منوائے جائیں گے اور موجودہ آزادی مارچ تاریخ رقم کرے گی۔ انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کرپٹ لوگ ایک جگہ اکھٹے ہورہے ہیں، ایک طرف حکومت مسلسل رابطے کررہی ہے، احتجاج کا جمہوری حق بھی مانتی ہے لیکن اس کے استعمال کے بعد ایسے بیانات عمران خان اور اسکی ٹیم کی ہٹ دھرمی، غیرسیاسی، غیراخلاقی لب ولہجہ و انداز گفتگو ظاہر کرتی ہے۔ انکی ٹیم کی غلط پالیسیوں اور رویوں کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک معاشی طور پر تباہ ہوچکا ہے، معیشت کو آئی ایف کی جھولی میں ڈال دیا گیا ہے،ڈاکٹرز، وکلائ، تاجر، اساتذہ سمیت ہر طبقہ احتجاج پر مجبور ہیں لیکن حکومتی رویہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اسلئے اپوزیشن کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں بچا کہ جمہوریت کی بحالی اور عوامی مفاد میں اس سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ ہو۔انہوں نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ہم اب بھی اس موقف کے ساتھ ہیں کہ وزیراعظم استعفیٰ دے گا، شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زیرنگرانی فوج کی مداخلت کے بغیر کرانے ہوں گے، آئین کی تمام شقوں کے ساتھ بالادستی کے لئے آزادی مارچ ہر صورت ہوکر رہے گا، مطالبات پورے ہوں گے اور آزادی مارچ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ انہوں نے انصارالاسلام پر پابندی بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی رضاکار فورس پر پابندی لگانے والے تاریخ دیکھ لیں، محمدعلی جناح نے بھی مسلم لیگ کیلئے رضاکار فورس(نیشنل گارڈ) بنائی تھی،اگر انصارالاسلام غیرآئینی ہے تو نیشنل گارڈ کے بارے میں تحریک انصاف کیا کہے گی؟ آج ہر سیاسی جماعت کے ساتھ رضاکارفورس موجود ہے جو آئینی و جمہوری طریقے سے اپنی سیاسی جماعت کے ساتھ ہر جگہ کھڑی رہے گی۔