2019 October اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے، اسفندیار ولی خان

اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے، اسفندیار ولی خان

اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے، اسفندیار ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے اور صوبائی تنظیمیں طریقہ کار وضع کریں کہ کس طرح ہم جے یو آئی سے تعاون کرسکتے ہیں،مولانا کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچ جائیگا تو میں بذات خود اُس میں شرکت کرونگا،وزیراعلیٰ نے سیاسی کارکنان کے ساتھ کچھ کیا تو پھر اے این پی سلیکٹڈ وزیراعلیٰ سے حساب لے گی۔باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے اور طریقہ کار وضع کررہے ہیں کہ کس حد تک مولانا کے ساتھ تعاون کیا جائے،یہ فیصلہ ہوچکا کہ میں مولانا کے لانگ مارچ میں شرکت کرونگا اور پارٹی کارکنان سے مجھے اُمید ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ ہونگے۔اسفندیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر بھی واضح کیا کہ اگر 27اکتوبر کو کسی بھی سیاسی ورکر پر تشدد کیا گیا یا اُن کا راستہ روکا گیا تو اُس کا جواب صوبائی حکومت سے اے این پی لے گی اور اسکے بعد میں بھی اپنے کارکنان کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دونگا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اتنا سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک وزیراعلیٰ رہینگے،پھر اُس کو اپنے آبائی گاؤں مٹہ سوات میں بھی پناہ نہیں ملے گی،جب ایک حکومت اپنے عوام پر آئینی اور جمہوری احتجاج کا راستہ بند کرتی ہے تو پھر عوام کو مجبوری میں غیرآئینی اور غیر جمہوری راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ اور شفاف انتخابات چاہتی ہے جس میں تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں اندر رہتے ہوئے کام کرینگے،فوج پولنگ سٹیشنز میں اندر اور باہر ہونے کے بجائے الیکشن میں سڑکوں پر ڈیوٹیاں دیگی۔اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں ایکشن ان ایڈ سول آرڈیننس کو مارشل لاء کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی ہے،یہ قانون ملک کے کسی دوسرے صوبے میں لاگو نہیں کیا گیا ہے صرف خیبرپختونخوا وہ بدقسمت صوبہ ہے جہاں پر ایسے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں،انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ اس آرڈیننس کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور اُمید ہے کہ عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کریگی۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ملک پر مسلط کردہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جائے،این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے رو سے وفاق کا حصہ کم اور صوبوں کا حصہ بڑھ جائیگا جو سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو قابل قبول نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اے این پی کا موقف بہت واضح ہے،اے این پی کے نزدیک وہ لوگ دہشتگرد ہیں جو کسی پر بزور بندوق اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں،آج کشمیر میں بھارت اپنے نظریات بزور بندوق کشمیریوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے جو اے این پی کے نزدیک دہشتگردی ہے، اے این پی مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا چاہتی ہے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص بونیر اور سوات میں دہشت گرد وں کی جانب سے ایک بار پھر شہریوں کو بھتہ وصولی کیلئے کالز آرہے ہیں، اگر دہشت گرد اسی طرح متحرک ہوتے رہینگے تو سلیکٹرز کو جواب دینا پڑیگا کہ اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی؟ اے این پی کے نزدیک دہشت گردی کی نئے لہر کی ذمہ داری کپتان کو سلیکٹ کرنے والے سلیکٹرز پر عائد ہوگی۔اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں صوبہ بھر کے ڈاکٹرز کے احتجاج پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والوں کا آج ریاست کی جانب سے خون بہایا جارہا ہے،ایک قانون کے ذریعے ہسپتالوں کو نجکاری کی طرف لے جایا جارہا ہے،نئے قانون کے مطابق جو نیا ڈاکٹر آئیگا وہ محکمہ صحت کی بجائے ایک پرائیویٹ کمپنی کا ملازم ہوگا، یہ صورتحال کسی طور پر بھی صوبے کے عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی، اسفندیار ولی خان نے ملک میں جاری مہنگائی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سات فیصدمزید مہنگائی کی پیشنگوئی کو بھی ملک کے مستقبل کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالات اسی طرح رواں دواں رہے تو تقریباً ملک سے غربت کے بجائے غریب کا خاتمہ ہوجائیگا اور یہ خونی انقلاب کی طرف عوام کا عملی قدم ہوگا۔اسفندیار ولی خان نے ملک میں جاری احتساب کے نام پر انتقام کے عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتساب اور انتقام میں معمولی فرق ہوتا ہے،جب ایک حکومت یہ سمجھے کہ وہ اور اُس کے ساتھی فرشتے ہیں اور باقی سب چور ہیں تو یہی سب سے بڑا انتقام ہوتا ہے،آج ملک میں شریف اور زرداری خاندان کو نیب کے ذریعے ٹارچر کیا جارہا ہے،اگر مریم نواز اور فریال تالپور جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوسکتی ہیں تو علیمہ باجی کیوں پیش نہیں ہوسکتی،اسفندیار ولی خان نے چیئرمین نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب کے احتساب کا نعرہ لگانے والے کو پی ٹی آئی والے یا انسان نظر نہیں آتے یا احتساب کا لفظ اُن کیلئے نہیں بنا،کیونکہ چئیرمین نیب کو خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی نظر آرہی ہے،نا بلین ٹری پراجیکٹ اور نا ہی مالم جبہ سکینڈل اُن کے ریڈار پر ہیں،چیئرمین نیب کو صرف اتنا پوچھنا چاہیے کہ بی آر ٹی کتنے بجٹ سے کتنے تک پہنچا اور اُس کے ڈیزائن میں کتنی بار تبدیلی کی گئی،اسی طرح اگر نیب میں ہمت ہے تو یہ بھی پوچھ لیں کہ بلین ٹری میں کتنے درخت لگائے گئے اور پختونخوا کے جنگلات پر آگ کس نے لگائی؟آخر میں اسفندیار ولی خان نے افغان امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان امن مذاکرات ایک بار پھر شروع ہونے چاہیے،اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بداعتمادیوں کا خاتمہ بھی انتہائی ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب دونوں اطراف سے کوششیں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات میں چین،روس،امریکہ اور پاکستان پہلے سہولت کار بنے اور جب فریقین کے درمیان معاہدہ ہوجائے تو ان ممالک کو ضامن کا کردار ادا کرنا ہوگا

شیئر کریں