پشاور(پ ر)اے این پی 31اکتوبر کو آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،اسفندیار ولی خان رشکئی انٹرچینج سے خیبرپختونخوا کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کیلئے روانہ ہونگے،اسی طرح تھنک ٹینک اجلاس میں تمام صوبائی یونٹس کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں کے حالات کے مطابق 31اکتوبرتک آزادی مارچ کا حصہ بنے۔تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے مشاورتی کمیٹی کا اجلا س ولی باغ چارسدہ میں زیر صدارت مرکزی صدر اسفندیار ولی خان منعقد ہوا،اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور آذادی مارچ پر تفصیلی بات چیت کی گئی،اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عوامی نیشنل پارٹی 31اکتوبر کو آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،اس سلسلے میں تمام صوبائی یونٹس کو ہدایات جاری کی گئی کہ وہ اپنے اپنے حالات کے مطابق 31اکتوبر کو آزادی مارچ کا حصہ بنے،اسی طرح مرکزی صدر اسفندیار ولی خان 31اکتوبرکو خیبر پختونخوا کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے رشکئی انٹرچینج سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہونگے۔مشاورتی اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ تمام اپوزیشن جماعتوں کا آئینی اور قانونی حق ہے،اُمید ہے کہ حکومت نے تمام راستوں پر جو رکاوٹیں کھڑی کیے ہیں اُن کو فوری طور پر ہٹا کر سیاسی کارکنان کو اجازت دی جائیگی کہ وہ اپنے آئینی اور قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کریں،اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اے این پی کو ملک میں جاری مہنگائی،بیروزگاری اور معاشی صورتحال پر سخت تشویش ہے،سفید پوش انسان کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے،مشاورتی اجلاس میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے چلنے والی خبروں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا،اجلاس میں اس حوالے سے حکومتی وزراء کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کی بھی مذمت کی گئی۔اجلاس کے بعد ولی باغ چارسدہ سے جاری اپنے بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ملک میں آج اگر ایک طرف معیشت تباہی کے دھانے پر آکر کھڑی ہوگئی تو دوسری طرف عوامی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ایسے قوانین لائے جارہے ہیں جس کا اثر غریب اور لاطار عوام پر پڑرہا ہے،اپنے بیان میں انہوں نے پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے ایکشن ان ایڈ سول پاور آرڈیننس کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کو خوش آئیند قراردیا لیکن ساتھ میں حکومت کے اس روہے کہ بھی مذمت کی گئی کہ اُس قانون کو لاگو کرنے کیلئے صوبائی حکومت اب سپریم کورٹ کا سہارا لے رہی ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی کو عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے لیکن صوبائی حکومت اپنے سلیکٹرز کو خوش کرنے کیلئے آخری حد تک جانے کیلئے تیار ہے۔اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ آج ملک پر مسلط کردہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جائے،این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے رو سے وفاق کا حصہ کم اور صوبوں کا حصہ بڑھ جائیگا جو سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو قابل قبول نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اے این پی کا موقف بہت واضح ہے،اے این پی کے نزدیک وہ لوگ دہشتگرد ہیں جو کسی پر بزور بندوق اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں،آج کشمیر میں بھارت اپنے نظریات بزور بندوق کشمیریوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے جو اے این پی کے نزدیک دہشتگردی ہے، اے این پی مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا چاہتی ہے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص بونیر اور سوات میں دہشت گرد وں کی جانب سے ایک بار پھر شہریوں کو بھتہ وصولی کیلئے کالز آرہے ہیں، اگر دہشت گرد اسی طرح متحرک ہوتے رہینگے تو سلیکٹرز کو جواب دینا پڑیگا کہ اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی؟ اے این پی کے نزدیک دہشت گردی کی نئے لہر کی ذمہ داری کپتان کو سلیکٹ کرنے والے سلیکٹرز پر عائد ہوگی۔ اسفندیار ولی خان نے ملک میں جاری مہنگائی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سات فیصدمزید مہنگائی کی پیشنگوئی کو بھی ملک کے مستقبل کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حالات اسی طرح رواں دواں رہے تو تقریباً ملک سے غربت کے بجائے غریب کا خاتمہ ہوجائیگا اور یہ خونی انقلاب کی طرف عوام کا عملی قدم ہوگا۔اسفندیار ولی خان نے ملک میں جاری احتساب کے نام پر انتقام کے عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتساب اور انتقام میں معمولی فرق ہوتا ہے،جب ایک حکومت یہ سمجھے کہ وہ اور اُس کے ساتھی فرشتے ہیں اور باقی سب چور ہیں تو یہی سب سے بڑا انتقام ہوتا ہے،آج ملک میں شریف اور زرداری خاندان کو نیب کے ذریعے ٹارچر کیا جارہا ہے،اگر مریم نواز اور فریال تالپور جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوسکتی ہیں تو علیمہ باجی کیوں پیش نہیں ہوسکتی،اسفندیار ولی خان نے چیئرمین نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب کے احتساب کا نعرہ لگانے والے کو پی ٹی آئی والے یا انسان نظر نہیں آتے یا احتساب کا لفظ اُن کیلئے نہیں بنا،کیونکہ چئیرمین نیب کو خیبرپختونخوا میں بی آر ٹی نظر آرہی ہے،نا بلین ٹری پراجیکٹ اور نا ہی مالم جبہ سکینڈل اُن کے ریڈار پر ہیں،چیئرمین نیب کو صرف اتنا پوچھنا چاہیے کہ بی آر ٹی کتنے بجٹ سے کتنے تک پہنچا اور اُس کے ڈیزائن میں کتنی بار تبدیلی کی گئی،اسی طرح اگر نیب میں ہمت ہے تو یہ بھی پوچھ لیں کہ بلین ٹری میں کتنے درخت لگائے گئے اور پختونخوا کے جنگلات پر آگ کس نے لگائی؟آخر میں اسفندیار ولی خان نے افغان امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان امن مذاکرات ایک بار پھر شروع ہونے چاہیے،اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود بداعتمادیوں کا خاتمہ بھی انتہائی ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب دونوں اطراف سے کوششیں کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات میں چین،روس،امریکہ اور پاکستان پہلے سہولت کار بنے اور جب فریقین کے درمیان معاہدہ ہوجائے تو ان ممالک کو ضامن کا کردار ادا کرنا ہوگا