2019 October کراچی میں پرامن پشتون ڈرائیورز کی شہادت،اے این پی کی جانب سے مذمتی قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں جمع

کراچی میں پرامن پشتون ڈرائیورز کی شہادت،اے این پی کی جانب سے مذمتی قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں جمع

کراچی میں پرامن پشتون ڈرائیورز کی شہادت،اے این پی کی جانب سے مذمتی قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں جمع

پشاور(پ ر)کراچی میں پرامن پشتون ڈرائیورز کی شہادتوں پراے این پی کی جانب سے مذمتی قرارداد خیبرپختونخوا اسمبلی میں جمع کردیا گیا ہے،قرارداد اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سرادر حسین بابک کی جانب سے جمع کیا گیا،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ صوبائی اسمبلی کراچی میں پرامن احتجاج کرنیوالے پشتون ڈرائیورز پر تشدد کرکے شہید کرنے کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس واقعہ میں ملوث اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کی انکوائری کی جائے۔ ایک عرصہ سے اس ملک میں جاری پختونوں کی نسل کشی انتہائی دردناک اور ناقابل برداشت ہے۔ پختونوں کے ساتھ روا رکھاجانیوالا رویہ احساس محرومی اور احساس کمتری میں اضافے کا باعث بنے گا۔ جاری ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری خوف و ہراس اور عدم تحفظ کے ماحول کے طوالت کا باعث بنے گا۔قرارداد میاں مزید کہا گیا ہے کہ اس ظلم و بربریت پر حکومتوں کی خاموشی قابل تشویش اور زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ حکومت لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، عوام میں عدم تحفظ کی تشویش بڑھتی جارہی ہے،دہشت گردی اور شدت پسندی کے مارے ہوئے پختون دربہ در ٹھوکریں کھانے پر مجبور اور ملک کے کسی کونے میں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ یہ ناروا اور غیرانسانی سلوک نہ صرف نامناسب بلکہ ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہوچکا ہے۔ پختونوں سے میں پائی جانیوالی تشویش، عدم تحفظ اور ناروال سلوک و رویے کو فوری طور پر ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو ملکی شہریوں کو حاصل آئینی اور انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ پختون سکھ کا سانس لے سکیں اور اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرسکیں۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے یہ کہ اس واقعے میں شہید ہونیوالے ڈرائیورز کو شہداء پیکج میں شامل کرکے ان کے ورثاء کی مالی امداد اور زخمیوں کے علاج و معالجہ سمیت ان کے لئے بھی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

شیئر کریں