2019 October اے این پی تین مختلف طریقوں سے آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،میاں افتخار حسین

اے این پی تین مختلف طریقوں سے آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،میاں افتخار حسین

اے این پی تین مختلف طریقوں سے آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،میاں افتخار حسین

نوشہرہ(نمائندہ)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اے این پی تین مختلف طریقوں سے آزادی مارچ کا حصہ بنے گی،اسفندیار ولی خان اس سلسلے میں واضح اعلان کرچکے ہیں کہ اے این پی اُس وقت احتجاج کریگی جب سیاسی کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا جائیگا، اس طرح مولانا صاحب اگر اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو اُس صورت میں اے این پی بھر پور طریقے سے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں مارچ کا حصہ بنے گی اور اگر جے یو آئی قائدین بالخصوص مولانا فضل الرحمان گرفتار ہوتے ہیں تو اُس صورت میں مارچ کی قیادت اسفندیار ولی خان خود کرینگے۔ نوشہرہ میں اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ضلعی تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اُن چار نکات پر متفق ہیں جن کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان اسلام آباد مارچ کا انعقاد کررہے ہیں،حکومت کا استعفیٰ،نئے انتخابات کا انعقاد،تمام اداروں کا اپنے آئینی حدود میں رہنے اور آئین کے تحفظ پر تمام جماعتیں متفق ہیں،میاں افتخارحسین نے کہا اے این پی اپنا لائحہ عمل واضح کرچکی ہے کہ 27اکتوبر یا اُس کے بعد اسلام آباد پہنچنے تک جے یو آئی کے ورکرز پر حکومت تشدد کرتی ہے تو اسفندیار ولی خان خود احتجاج کا اعلان کرینگے اور اے این پی اُس صورت میں احتجاج کریگی، اسی طرح اگر مولانا صاحب بخیر و عافیت اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو تب اے این پی مارچ کا حصہ بنے گی اور اے این پی کارکنان بھرپور قوت کے ساتھ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اسلام آباد کا رخ کرینگے،اسی طرح اگر جے یو آئی کے قائدین گرفتار ہوتے ہیں تو اُس صورت میں اسفندیار ولی خان مارچ کی قیادت خود کرینگے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ مارچ سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت نے جو رویہ اپنایا ہے اُس سے واضح ہورہا ہے کہ حکومت اور حکومتی وزراء بوکھلاہٹ کا شکار ہیں،یوٹرن ماسٹر وزیراعظم نے مذاکرات کے حوالے سے بھی دو بار یوٹرن لیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ناجائز دھرنے کو جائز قرار دینے والے عمران نے اپنے دھرنے کیلئے ہر قسم کا سپورٹ حاصل کیا،عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا،مذاکرات سے انکارکیا،پارلیمنٹ،سپریم کورٹ اور پی ٹی وی پر حملے کروائے،آج ملک کے تمام سیاسی جماعتوں سے وہی عمران آئینی حق چھیننا چاہتا ہے،اسلام آباد مارچ کے حوالے سے ہائی کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے پھر بھی حکومت کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی باتیں ہورہی ہے،جو سمجھ سے بالاتر ہے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ آج حکومتی وزراء جمیعت علمائے اسلام کے ڈنڈا بردار فورس پر تنقید کررہی ہے لیکن حکومتی وزراء تاریخ سے اتنے نابلد ہیں کہ جتنی بھی پرانی سیاسی پارٹیاں ہیں اُن کے اپنے رضاکار ہوتے ہیں یہاں تک کہ محمد علی جناح صاحب نے بھی مسلم لیگ کیلئے نیشنل گارڈز کے نام پر رضاکاروں کی تنظیم بنائی تھی،انہوں نے کہا کہ مارچ کے حوالے سے حکومتی ارادے عیاں ہورہے ہیں،حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارچ کے شرکاء کو تحفظ اور راستہ فراہم کرنا ہوگا۔اس موقع پر ضلعی صدر جمال خان خٹک،ضلعی جنرل سیکرٹری انجنیئرحامد خان،مسعود عباس خان،زرعلی خان اور دیگر ضلعی قائدین نے میاں افتخار حسین کو یقین دلایا کہ اسفندیار ولی خان کی کال پر اے این پی نوشہرہ بھرپور انداز میں اسلام آباد مارچ میں شرکت کریگی

شیئر کریں