پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ نے این آر او نہیں دونگا کے بعد نیا نعرہ تخلیق کیا ہے کہ استعفیٰ نہیں دونگا لیکن اُن کو یاد رکھنا چاہیے کہ اپوزیشن استعفیٰ لیکر رہی گی،اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ کہنا والا یاد رکھیں کہ اُس کو اقتدار تب ہی ملا جب تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا۔اپنے دس روزہ تنظیمی دورے کے آخری روز ڈاگئی صوابی اور دیگر مقامات پر شمولیتی اجتماعات اور کارنر میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ سلیکٹڈ اپوزیشن جماعتوں کو بھارت کے نام پر بلیک میل نہ کریں،اپوزیشن جماعتیں کسی طور بھی استعفیٰ کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی،وزیراعظم خود بھارت کے ساتھ کشمیر کا سودا کرچکا ہے،اب مگرمچھ کے آنسو بہانے سے کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔انہوں نے کہا کہ ملک پر آمرانہ سوچ رکھنے والی حکومت اور حکمران مسلط کیے گئے ہیں اسکے خلاف آواز اُٹھانا اور جمہوری جدوجہد کرنا ہر جمہوری جماعت کا حق ہے،حکومت جو بھی ارادہ رکھتی ہو،اپوزیشن جماعتیں اُس کیلئے تیار ہیں،حکومت احتیاط کریں ایسا نہ ہو کہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپنا کھویا ہوا ساکھ مزید بھی کھو دے۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ اے این پی اسلام آباد مارچ میں شمولیت کا فیصلہ کرچکی ہے،مولانا صاحب اپنے پلان کے مطابق اسلام آباد کا رخ کرینگے،اگر انہیں روکا جاتا ہے تو پھر نہ صرف اسفندیار ولی خان مارچ کی قیادت کرینگے بلکہ سیاسی کارکنان پر ہونے والے تشدد کی جواب طلبی بھی اے این پی کریگی،اسی طرح اگر مولانا بخیر و عافیت اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو اے این پی کارکنان اسفندیار ولی خان کی قیادت میں مارچ کا حصہ بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو عدالت احتجاج سے نہیں روک رہی کیونکہ عدالت بھی یہی سمجھتی ہے کہ احتجاج کرنا ہر آئینی اور جمہوری جماعت کا حق ہے،اُس کے باوجود بھی حکومت آئے روز مختلف ڈرامہ بازیوں کی شکل میں شگوفے چھوڑ رہی ہے،جس کا ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے کہ حکومت مارچ شروع ہونے سے پہلے اپنا دھڑن تختہ کرچکی ہے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ سابق وزراء اعظم میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ جو رویہ اپنایا گیا اُس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے،شاہد خاقان عباسی کو سزائے موت کے سیل میں رکھا گیا ہے جبکہ میاں نواز شریف کو ایسے حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا کہ اب اگر اُن کو خدانخواستہ کچھ ہوتا ہے تو حکومت ہی اُس کی قاتل تصور ہوگی،یہ ذلت آمیز رویہ ہے اور جمہوری معاشروں میں ایسے رویے ناقابل برداشت ہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ اس حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لینگے۔