2019 October ملاکنڈ ڈویژن میں شہریوں سے دہشتگرد باقاعدہ بھتے وصول کررہے ہیں،ایمل ولی خان

ملاکنڈ ڈویژن میں شہریوں سے دہشتگرد باقاعدہ بھتے وصول کررہے ہیں،ایمل ولی خان

ملاکنڈ ڈویژن میں شہریوں سے دہشتگرد باقاعدہ بھتے وصول کررہے ہیں،ایمل ولی خان

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ دہشت گرد پھر سے متحرک ہوگئے ہیں،ملاکنڈ ڈویژن میں شہریوں سے باقاعدہ بھتے وصول کیے جارہے ہیں،اگر حالات کا بروقت ادراک نہ کیا گیا تو ملاکنڈ ڈویژن سمیت پورا صوبہ پھر سے دہشت گردوں کا آماجگاہ بن جائیگا،ان خیالات کا اظہار صوبائی صدر ایمل ولی خان نے بونیر یونین کونسل پاچا بٹئی اور گردیزی میں مختلف کارنر میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی دور حکومت سے پہلے مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملاکنڈ ڈویژن کو دہشت گردوں نے اپنے قبضے میں کرلیا تھا،پاکستان کے جھنڈے کو پولیس سٹیشن پر بھی نہیں چھوڑا جارہا تھا،دہشت گرد باقاعدہ طور پر اپنی عدالتیں لگا کر عام اور معصوم شہریوں کو سزائیں اور پھانسیاں دیتے تھے، اے این پی نے حکومت میں آنے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف عملی جنگ لڑی، جس کے نتیجے میں دہشتگردی تو ختم ہوئی لیکن اُس جنگ میں بشیر بلور سے لیکر ہارون بلور سمیت سینکڑوں ساتھیوں کو شہید کیا گیا، ایمل ولی خان نے کہا کہ آج ایک بار پھر پورے ملاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص بونیر میں دہشتگرد منظم ہورہے ہیں،لوگوں سے باقاعدہ طور پر بھتے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ ریاستی اداروں نے ساری صورتحال پر چُپ کا روزہ رکھا ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی ادارے اسی طرح خاموش رہے تو دہشتگرد ایک بار پھر پورے صوبے میں پھیل جائینگے۔ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے صوبہ خیبرپختونخوا کو بجلی کا خالص منافع نہ دینے کے اعلان کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اگر آج صوبے میں کٹھ پتلیاں نہ بیٹھے ہوتے تو وفاق یہ اعلان کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا کہ وفاق صوبے کو اپنا حق نہیں دے سکتا،اگر وفاق اپنے اس اعلان پر قائم رہتا ہے اور صوبہ خیبرپختونخوا کو اپنا آئینی حق نہیں دیتا تو اے این پی مجبور ہوگی کہ پختون قوم کو بل جمع نہ کرنے کی کال دے،اسی طرح اے این پی اس آپشن پر بھی غور کرسکتی ہے کہ تربیلا ڈیم تک مارچ کریں کیونکہ وفاق اگر صوبے کا آئینی حق نہیں دیتا اور صوبے میں اُن کی کٹھ پتلیاں اُن سے حق نہیں مانگ سکتی تو پھر اے این پی بھی مجبور ہوگی کہ احتجاج کے جو بھی نتائج آتے ہیں وہ اپنے آئینی حق کیلئے کسی بھی آپشن پر غور کرے گی

https://scontent.fisb6-1.fna.fbcdn.net/v/t1.0-9/71584589_2552347744826890_1731902990396162048_o.jpg?_nc_cat=105&_nc_eui2=AeHn3eOKsagm0YZdwFgIb8xg4c-zx-Zz1Mfoxi4JfxdCxIYaO6Ze3EYEVPT10W_lUA08wohk96iw64C68qT1Zi1wowfNpUzKJynBTg4Q3OOW6w&_nc_oc=AQl6xDg0NTXwgX_YDS8TMMWLXMqCzv76Zu359v3w7B64Pyw9chrHkklHufZsbSxpU3M&_nc_ht=scontent.fisb6-1.fna&oh=0ae20a5a94e8aa453a654379c8977d6b&oe=5E205703
شیئر کریں