پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ایک مخصوص لابی نہ صرف پختونوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے بلکہ وہی لابی پختونوں کے قدرتی وسائل پر بھی قابض ہورہی ہے،اس کے باجود بھی پختونوں کو اپنے مسائل کا ادراک نہیں،جب تک پختون من حیث القوم ان مسائل کے خلاف اُٹھ کھڑی نہیں ہوگی تب تک پختونوں کی نسل کشی جاری رہے گی اور ہمارے وسائل بھی غیروں کے ہاتھوں میں ہونگے،ضلع صوابی کے دس روزہ تنظیمی دورے کے دوسرے روز تحصیل ٹوپی میں گندف اور کوٹہ یونین کونسلز میں مختلف مقامات پر کارنر میٹنگز اور اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں نے ایک بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہم نے عمر بھر اتفاق نہیں کرنا،پختون سرزمین کو آج ہر سطح پر مسائل کا سامنا ہے،آج پختون سیاسی طور پر ان اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ اُن کو اپنے مسائل کا اداراک ہی نہیں ہے،آج پختون ذاتی لالچ اور خواہشات کی تکمیل کے خاطر ووٹ دیتا ہے، بیرونی اور اندرونی قوتیں سوچے سمجھے سازش کے تحت پختونوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں،گزشتہ چالیس سالوں سے نہ صرف پختونوں کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا گیا ہے بلکہ اُن کے حجریں،مساجد اور سکولز بھی تباہ کیے جارہے ہیں۔آپریشن ردالفساد میں مصروف ریاست اگر چالیس سال پہلے ہمارے اکابرین پر فتوے لگانے کی بجائے اُن کی بات مان لیتے تو آج ریاست کو ردالفساد نہ کرنا پڑتا، پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کی خوشنودی اور ڈالروں کے حصول کیلئے پہلے دہشت گردوں کو بنایا،پھر اُن کو پالا اور اب انہی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں ہورہی ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ اُن کی قدرتی وسائل پر بھی وہی قوتیں قابض ہیں جو پختونوں کا قتل عام کررہی ہیں،وزیرستان سے لیکر باجوڑ اور جنوبی اضلاع تک پختونوں کے وسائل پر غیر پختون قابض ہیں۔اگر انہی قدرتی وسائل کو اٹھارویں آئینی ترمیم کے اصل روح کے مطابق پختون سرزمین کو دیے جائیں تو پورے پختونخوا میں کوئی غریب نہیں رہے گا،معاشی لحاظ سے خیبرپختونخوا پاکستان کا مضوط ترین صوبہ ہوگا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ موجودہ حکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی ہے،حکومتی دہشت گردی کی حالت یہ ہے کہ وزیراعظم وفاق سے اُٹھ کر خیبرپختونخوامیں اعلان کرتا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کو بجلی رائلٹی کی مد میں اپنا آئینی حصہ نہیں دے سکتا،وزیراعظم اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ وفاق سے ایسے فیصلے مسلط کرینگے اور ہم اُس پر خاموش رہینگے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیونکہ اے این پی خیبرپختونخوا کے حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریگی،انہوں نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء صرف اسی وجہ سے نہیں کیا جارہا کہ وفاق کو ڈر ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ زیادہ ہوگا،موجودہ وفاقی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ صوبوں کو حق ملنے سے فیڈریشن مضبوط ہو بلکہ موجودہ حکومت صوبوں کے پاس موجودہ وسائل پر اختیار بھی واپس لینا چاہتی ہے،انہوں نے واضح کیا کہ اس سارے صورتحال پر اے این پی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنا کردار اداد کرتی رہے گی،اے این پی اس سلسلے میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کراچکی ہے اور اگر وفاق صوبوں کو آئینی حقوق نہ دینے پر ڈٹا رہا تو اے این پی کے پاس اگلا آپشن صوبہ گیر احتجاج ہوگا