پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ کشمیر کا رونا رونے والے پختونخوا کے حالات پر اُف تک نہیں کرتے۔خیبر پختونخوا میں آج حالات یہ ہے کہ ڈاکٹرز جیلوں اور پولیس ہسپتالوں میں ہیں،مسلط کردہ حکومت کی جانب سے عددی اکثریت کے بنیاد پر فیصلے مسلط کیے جارہے ہیں،ایسے قوانین پاس کیے جارہے ہیں کہ لاپتہ افراد کے معاملے کو بھی قانونی کور ملنے لگے ہیں۔ضلع صوابی کے دس روزہ تنظیمی دورے کے پہلے روز مختلف اجتماعات اور شمولیتی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اُن کے ان تنظیمی دوروں کا مقصد پختونوں کو اُن کے مسائل کے حوالے سے شعور دینا ہے،پختونخوا اگر ایک طرف معاشی بحران کا سامنا ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے یہاں حکومتی دہشتگردی ہورہی ہے،نئے خیبر پختونخوا کے یہ حالات ہے کہ یہاں پر نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں پر ایسے قوانین مسلط کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے،آج خیبر پختونخوا میں یہ حالات ہے کہ ڈاکٹرز جیلوں اور پولیس ہسپتالوں میں ہیں،عددی اکثریت کے بنیاد پر سلیکٹڈ حکومت کی جانب سے عوام پر فیصلے مسلط کیے جارہے ہیں،حساس قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے لوگوں پر مسلط کیا جارہا ہے،خیبر پختونخوا کے گورنر نے ایک ایسا آرڈیننس جاری کیا ہے جس سے لاپتہ افراد کے معاملے کو قانونی کور مل رہا ہے،اے این پی اس صورتحال پر خاموش نہیں رہی گی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اُس کے باوجود بھی یہاں کے نوجوان باہر ملکوں میں روزگار اور نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں،اٹھارویں آئینی ترمیم میں خیبر پختونخوا کو جو حصہ ملا ہے اگر اُس پر اصل معنوں میں عمل درآمد کیا جائے تو خیبر پختونخوا معاشی لحاظ سے پاکستان کا مضبوط صوبہ ہوگا،سوچھے سمجھے سازش کے تحت پختونوں کے قدرتی وسائل غیروں کو دیے گئے ہیں،وزیرستان سے لیکر باجوڑ اور جنوبی اضلاع کے قدرتی وسائل سے غیر پختون لوگ پیٹ بھر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی ان سارے مسائل کا حل پختونوں کے اتحاد و اتفاق قائم رکھنے میں سمجھتی ہے،جب تک پختون اپنے صفوں میں اتحاد و اتفاق قائم نہیں کرینگے تب تک نہ پختونوں کو اپنے وسائل پر حق ملے گا اور نہ ہی پختونوں کو اپنے وسائل سے کوئی فائدہ ملے گا۔