2019 October اسفندیار ولی خان جس دن مارچ سے خطاب کرینگے اُس دن اے این پی طاقت کا مظاہرہ کریگی،ایمل ولی خان

اسفندیار ولی خان جس دن مارچ سے خطاب کرینگے اُس دن اے این پی طاقت کا مظاہرہ کریگی،ایمل ولی خان

اسفندیار ولی خان جس دن مارچ سے خطاب کرینگے اُس دن اے این پی طاقت کا مظاہرہ کریگی،ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت اور اُن کے ساتھ تعاون کا اعلان کرچکی ہے،اسفندیار ولی خان نہ صرف آزادی مارچ میں شرکت کرینگے بلکہ اگر اُن کے کارکنان کو تشدد کے ذریعے روکا گیا تو اُس کی جواب طلبی بھی سلیکٹڈ حکومت سے اے این پی کریگی۔باچا خان مرکز پشاور میں صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی آزادی مارچ کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور جے یو آئی کے ساتھ تعاون بھی کریگی،اگر آزادی مارچ پر کسی قسم کا تشدد کیا گیا یا جے یو آئی کے کارکنان کو روکنے کی کوشش کی گئی تو اے این پی سیاسی کارکنان پر تشدد کے خلاف میدان عمل میں ہوگی،اگر مولانا صاحب اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو پھر جس روز اسفندیار ولی خان آزادی مارچ میں شرکت کرنے جائینگے،اُس دن اے این پی اپنے پھرپور قوت کا مظاہرہ اسلام آباد میں کریگی،ایمل ولی خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے چار نکات پر متفق ہیں اور سمجھتی ہیں کہ سلیکٹڈ حکومت کو گھر جانا ہوگا،ملک میں نئے شفاف انتخابات کرانے ہونگے،انتخابی عمل میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور اسی طرح آئین پاکستان کے تمام شقوں کا تحفظ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے نتائج جو بھی آئینگے لیکن یہ طے ہے کہ قبر ایک ہے اور اُس میں دو میں سے ایک نے دفن ہونا ہے،مولانا صاحب کسی طور بھی اب واپس نہیں ہونگے کیونکہ کپتان نے سیاسی قیادت کی جتنی بے عزتی کرنی تھی وہ کرچکا ہے، اب اُس کے ساتھ حساب کتاب کا وقت شروع ہوچکا ہے۔مولانا صاحب کپتان کو این آر او نہیں دینگے۔صوبے کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ آج ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص بونیر اور سوات میں دہشت گرد وں کی جانب سے ایک بار پھر شہریوں کو بھتہ وصولی کے کالز آرہے ہیں، اگر دہشت گرد اسی طرح متحرک ہوتے رہینگے تو سلیکٹرز کو جواب دینا پڑیگا کہ اس کی ذمہ داری پھر کس پر عائد ہوگی؟ اے این پی کے نزدیک دہشت گردی کے نئے لہر کی ذمہ داری کپتان کو سلیکٹ کرنے والے سلیکٹرز پر عائد ہوگی،پاکستان کو پھر سے دہشت گردوں کیلئے جنت بنانے سے گریز کیا جائے،انہوں نے صوبے میں ایکشن ان ایڈ سول آرڈیننس کو مارشل لاء کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی ہے،یہ قانون ملک کے کسی دوسرے صوبے میں لاگو نہیں کیا گیا ہے صرف خیبرپختونخوا وہ بدقسمت صوبہ ہے جہاں پر ایسے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اے این پی جلد اس قانون کے خلاف بحثیت پارٹی عدالت سے رجوع کریگی اُمید ہے کہ عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کریگی۔ایمل ولی خان نے کہا کہ آج ملک پر مسلط کردہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جائے،این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے رو سے وفاق کا حصہ کم اور صوبوں کا حصہ بڑھ جائیگا جو سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو قابل قبول نہیں ہے، اسی طرح وفاق خیبر پختونخوا کو بجلی رائلٹی کی مد میں آئینی حق دینے سے بھی کترا رہا ہے جو ملک کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے،اے این پی کسی صورت پختونوں کے آئینی حقوق دینے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی،ایمل ولی خان نے صوبہ بھر کے ڈاکٹرز کے احتجاج پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنے والوں کا آج ریاست کی جانب سے خون بہایا جارہا ہے،ایک قانون کے ذریعے ہسپتالوں کو نجکاری کی طرف لے جایا جارہا ہے،نئے قانون کے مطابق جو نیا ڈاکٹر آئیگا وہ محکمہ صحت کی بجائے ایک پرائیویٹ کمپنی کا ملازم ہوگا، یہ صورتحال کسی طور پر بھی صوبے کے عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی،خیبر پختونخوا میں حکومتی دہشت گردی ہورہی ہے،حکومت بزور طاقت شہریوں پر اپنے فیصلے مسلط کررہی ہے،مظاہرین کو جیلوں میں بند کیا جارہا ہے،اس طریقے سے جو نقصان ہوگا وہ صرف اور صرف ملک وقوم کا ہوگا

شیئر کریں