2019 October پاکستان میں ریاست کے تمام ستونوں کو یرغمال بنا دیا گیا ہے،ایمل ولی خان

پاکستان میں ریاست کے تمام ستونوں کو یرغمال بنا دیا گیا ہے،ایمل ولی خان

پاکستان میں ریاست کے تمام ستونوں کو یرغمال بنا دیا گیا ہے،ایمل ولی خان

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ آج عدلیہ کی آزادی پر مختلف طریقوں سے وار کیے جارہے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بننے والی ریفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ کو کنٹرول کیا جاسکے، واٹس ایپ پر جج تبدیل ہورہے ہیں،آج وکلاء کو ایک بار پھر عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بونیر سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پاکستان میں ریاست کے تمام ستونوں کو ماسوائے ایک ادارے کے یرغمال بنا دیا گیا ہے،میڈیا کو پابند سلاسل کیا جارہا ہے، باتیں آن ائیر نہیں ہوتیں جب تک ایک مخصوص ادارہ اُس کی اجازت نہ دے، اسی طرح عدلیہ میں جو جج حق اور سچ پر مبنی فیصلہ یا ریمارکس دیتا ہے اُس جج کیخلاف ریفرنسز بنا دی جاتی ہیں،سیاسی مقدمات میں ججوں کو واٹس ایپ پر تبدیل کیا جارہا ہے،کیا اس پاکستان کو اصل معنوں میں جمہوری اور آزاد پاکستان کہا جاسکتا ہے؟ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ پختون من حیث القوم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں،پختونوں کو اپنی بقاء کا مسئلہ درپیش ہے،مساجد سے لیکر پختونوں کے حجروں تک سب کچھ تباہ کردیا گا ہے، ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کو گزشتہ ادوار میں نشانہ بنایا گیا،کوئٹہ بار میں ہونے والا دھماکہ اُس کا ثبوت ہے اور وکلاء برادری اس دکھ کو بہتر سمجھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے اداروں کو پرائیویٹائز کیا جارہا ہے، محکمہ صحت کو ایک ایکٹ کے ذریعے ٹھیکیدار کے سپرد کیا جارہا ہے،جب اس ساری صورتحال کے خلاف لوگ سڑکوں پر آتے ہیں تو اُن پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہے، جب تک پختون ایک نہیں ہوں گے ان مسائل کا مقابلہ بہت مشکل ہے، پختونوں نے ایک بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہم نے عمر بھر اتفاق نہیں کرنا۔بدقسمتی سے پختونوں کو ان مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے، ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کو معاشی طور پربھی بہت سی مشکلات درپیش ہیں، اے این پی نے اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کی شکل میں پختونوں کیلئے جو حقوق حاصل کیے تھے آج کٹھ پتلیوں کے ذریعے اُن حقوق کو واپس لیا جارہا ہے یا اُن حقوق کو نہ دینے کی باتیں ہورہی ہیں۔وزیراعظم پاکستان خیبر پختونخوا میں آکر غیر آئینی اعلان کرتا ہے کہ وفاق اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا کو بجلی رائیلٹی دے سکے، اگر وزیراعظم پاکستان خیبر پختونخوا میں اُٹھ کر غیر آئینی اعلان کرتا ہے تو پھر اے این پی سے بھی خیر کی توقع نہ رکھیں کیونکہ اسی صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کیلئے اے این پی نے قربانیاں دی ہیں، باچا خان اور اُن کے ساتھیوں سے لیکر اسفندیار خان اور اُن کے ساتھیوں نے صوبائی خودمختاری کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے اگر اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روح پر اصل معنوں میں عمل درآمد کیا جائے تو کسی طور پر بھی خیبر پختونخوا غریب اور پسماندہ صوبہ نہیں رہے گا کیونکہ سارے پاکستان سے زیادہ معدنیات اور قدرتی وسائل خیبر پختونخوا میں ہیں اور یہی معدنیات پختون دشمن قوتوں کو ہضم نہیں ہورہیں جس کیلئے ایک طرف ہمارا قتل عام کیا جارہا ہے تو دوسری طرف کٹھ پتلیوں کے ذریعے ہمارے اُن حقوق پر قابض ہونے کی باتیں کی جاتی ہیں جو اے این پی کو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔

شیئر کریں