پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے وزیراعظم کی جانب سے ایک بار پھر سیاسی کارکنان سے نمٹنے کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلکٹڈ کو خبر ہونی چاہیے کہ آزادی مارچ میں شرکت کیلئے لاکھوں لوگ اسلام آباد آرہے ہیں،اُن کو کنٹرول کرنا پھر حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔سیاسی کارکنان کو اگر سیاسی طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا تو سیلکٹڈ کے ساتھ ساتھ اُن کے سلیکٹرز بھی پچھتائیں گے۔ولی باغ چارسدہ میں پارٹی کے مختلف وفود سے ملاقاتیں کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت اس حد تک بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے کہ آج اُس سابق سینیٹر کو پاکستان کیلئے آسمانی مخلوق اور افغانی قراردیا گیا ہے جس کا اپنا بیٹا فوج میں سیکینڈ لیفٹیننٹ اور باپ 70کی دہائی میں محکمہ تعلیم سے ریٹائر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو شہر ناپرسان بنا دیا گیا ہے لیکن سیلکٹڈ یاد رکھیں کہ یہ رویہ ملک اور قوم کیلئے نقصان دہ ہے،اگر سیلکٹڈ سمجھتا ہے کہ ان طریقوں سے وہ سیاسی کارکنان کا راستہ روک دیں گے تو یہ اُس کی غلط فہمی ہے،پرامن سیاسی کارکنان ہاتھوں میں جھنڈے اور اُن میں ڈنڈے لیکر اسلام آباد کا رخ کرینگے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ عوام نے سیلکٹڈ کو اسلام آباد سے باہر پھینکنا ہے،سرکاری وسائل سے عوام پر تشدد اور پابندی لگانا سیلکٹڈ کو مہنگا پڑ سکتا ہے،انہوں نے انکشاف کیا کہ صوبہ بھر میں جتنے بھی کنٹینرز لگائے گئے ہیں اُن کا کرایہ لوکل گورنمنٹ کے فنڈٖز سے ادا کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ راستے بند کرنے سے عوام کے سمندر کو اسلام آباد سے نہیں روکا جاسکتا۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ عوام کے حقیقی حکمرانی کو یقینی بنانے تک جدوجہد جاری رکھی جائیگی۔