2019 October ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کے تحت صوبائی حکومت محکمہ صحت کی نجکاری کریگی،ایمل ولی خان

ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کے تحت صوبائی حکومت محکمہ صحت کی نجکاری کریگی،ایمل ولی خان

ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کے تحت صوبائی حکومت محکمہ صحت کی نجکاری کریگی،ایمل ولی خان

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عوام محکمہ صحت کی نجکاری کے حوالے سے حکومتی جھوٹ و پراپیگنڈے پر کان نہ دھریں اور اس پراپیگنڈے کو شکست دیں،صوبائی حکومت ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے بل کے ذریعے ہسپتالوں کو ٹھیکداروں کے حوالے کرنا چاہتی ہے جس کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑے گا،بونیر دیوانہ بابا اور بٹاڑہ یونین کونسلز میں کارنر میٹنگز اور شمولیتی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کے تحت صوبائی حکومت محکمہ صحت کی نجکاری کریگی،ایکٹ کے شق نمبر 18پیرا 2سے واضح ہے کہ ہسپتال ایک کاروباری ادارہ کہلائے گا جو اپنا خرچہ خود برداشت کریگا،ہسپتال یہ خرچہ عوام سے براہ راست مہنگے علاج و معالجہ کی صورت میں وصول کریگا۔ہسپتالوں کو فنڈز کی بجائے قرض ملے گا اور قرض واپسی کا طریقہ کار خود اسمبلی فلور پر وزیرصحت واضح کرچکا ہے کہ بوجھ عوام نے برداشت کرنا ہوگا، ایمل ولی خان نے کہا کہ اس ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت بھی بڑھ جائی گی کیونکہ ہر ضلع کے بورڈ آف گورنرز میں سیاسی طور پر حکومتی پارٹی سے وابستہ نمائندگان کو ممبر بنایا جائیگا،اسی طرح اس ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی سرکاری نوکریوں کا تصور ختم ہوجائیگا،ایمل ولی خان نے کہا کہ اس سے پہلے بھی تبدیلی سرکار نے 2015میں جو اصلاحات کیے تھے اُس کا مقصد بھی صرف عوام سے پیسے بٹورنا تھا،اُن اصلاحات کی وجہ سے سی ٹی سکین 1200سے 2500روپے کا چلا گیا تھا،الٹرا ساونڈ کی قیمت بھی 500روپے تک بڑھ گئی تھی،دوائیوں کی قیمتوں میں 400فیصد تک اضافہ کردیا تھا اور تمام ٹیسٹوں کی فیسوں میں تین گنا اضافہ کردیا گیا تھا،عوام پر اتنا بوجھ بڑھانے کے باوجود بھی صوبہ بھر میں ایک نیا ہسپتال نہیں بنایا جاسکا، اب موجودہ ہسپتالوں کو بھی فروخت کیا جارہا ہے،ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے غریب عوام کو مفت علاج کی سہولت دی جائے نا کہ ہسپتالوں کی نجکاری کی جائے،پرتشدد واقعات میں ملوث وزیر صحت اور پولیس اہلکاروں کو اپنے عہدوں سے ہٹایا جائے جبکہ محکمہ صحت میں اس دوران ہونے والی بے ضابطگیوں کی غیرجانبدار تحقیقات بھی کرائی جائیں

شیئر کریں