2019 October این آر او نہ دینے والے نے این آر او کے حصول کیلئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،ایمل ولی خان

این آر او نہ دینے والے نے این آر او کے حصول کیلئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،ایمل ولی خان

این آر او نہ دینے والے نے این آر او کے حصول کیلئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،ایمل ولی خان

پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ یوٹرن ماسٹر نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے،این آر او نہ دینے والے نے این آر او کے حصول کیلئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،مولاناصاحب اب اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کپتان کو این آر او دے سکے،مذاکرات اب تب ہی ہونگے جب حکومت مستعفی ہوکر گھر چلی جائے۔صوابی کے دس روزہ تنظیمی دورے کے تیسرے دن صوابی پریس کلب میں صحافیوں اورڈسڑکٹ بار ایسوسی ایشن صوابی وتحصیل بار ایسوسی ایشن چھوٹا لاہور میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ جو قوتیں کپتان کو برسراقتدار لیکر آئی ہے،اب اگر وہ بھی چاہے تو کپتان کو این آر او نہیں ملے گی،مولانا صاحب کے ساتھ اے این پی کی جتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں اُس سے یہی لگتا ہے کہ مولانا ہر حال میں اسلام آباد آکر حکومت کی چھٹی کرائے گا۔این آر او نہ دینے کے ڈرامے کرنے والے کپتان کو آخر کار این آر او کیلئے رجوع کرنا پڑا،اب کپتان کی بھی وہی حالت ہوگی جو اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلوں کا ہوا تھا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اپوزیشن کی پہلی اے پی سی میں یہ تجویز اسفندیار ولی خان کی تھی کہ اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلیوں میں نہیں جانا چاہیے تھا،جس سے اُس وقت مولانا صاحب نے بھی اتفاق کرلیا تھا لیکن بدقسمتی سے اُس وقت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھی،اسفندیار ولی خان کی ایک تجویز یہ بھی تھی کہ اگر آپ اسمبلیوں میں جانا چاہتے بھی ہیں تو حلف نہ اُٹھائیں لیکن اُس تجویز سے بھی ماسوائے جے یو آئی کے کسی نے اتفاق نہیں کیا تھا،اگر اُس وقت اسفندیار ولی خان کی بات مانی جاتی تو آج اسلام آباد مارچ کی ضرورت بھی نہ ہوتی،ایک سال کے دوران ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے،اب تمام سیاسی جماعتیں مجبور ہیں کہ وہ اسلام آباد مارچ میں شمولیت اختیار کرکے حکومت کا دھڑن تختہ کرلیں۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ اگر حکومت گرفتاریاں کرتی ہیں تو اے این پی کی خواتین گھروں سے نکل کر حکومت مخالف تحریک کامیاب بنائے گی،اے این پی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ایک زمانے میں باچا خان،ولی خان اور اسفندیار ولی خان جیلوں میں تھے تو بیگم نسیم ولی خان نے نکل کر اے این پی کی تحریک کو آگے بڑھایا،اے این پی کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے خزانے کو بھی خالی کردیا گیا ہے، قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ آج حکومتی پالیسیوں کے سبب پائی پائی کا محتاج ہوچکا ہے،خیبرپختونخوا کے دیگر قدرتی وسائل کو چھوڑ کر اگر وفاق صوبے کو بجلی رائلٹی کی مد میں بھی اپنے واجبات ادا کریں تو صوبہ کسی طور مقروض نہیں ہوسکتا۔وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کا بجلی رائلٹی کی مد میں قرضہ 500ارب تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی صوبے کے حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی،پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی اے این پی پختونخوا کے حقوق کے حصول کیلئے کردار ادا کرتی رہیگی۔صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ پی ٹی آئی سرکار ہزار بار اعلانات کریں لیکن وہ بلدیاتی الیکشن کے موڈٖ میں نہیں،جب تک ان کو عدالت حکم نہیں کریگی صوبائی حکومت الیکشن کا انعقاد نہیں کریگی،لوگوں کو مزید غیر سیاسی بنانے کیلئے یہ اعلانات بھی ہورہے ہیں کہ انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر ہونگے، حکومت کا یہ اعلان بھی اے این پی کو قابل قبول نہیں بلکہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے بننے والے قانون کے خلاف اے این پی عدالت میں بھی ہے اور امید ہے کہ بلدیاتی ایکٹ کے حوالے عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ دے گی۔ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ دنیا کی ایک مخصوص لابی پاکستان کے طاقتور حلقوں سے مل کر نہ صرف پختونوں کا قتل عام کررہی ہے بلکہ وہی قوتیں ہمارے قدرتی وسائل پر بھی قابض ہیں،ان تمام مسائل سے نکلنے کا واحد حل پختونوں کے اتحاد واتفاق میں ہے۔پختون جب تک اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہیں کرینگے تب تک پختون قتل بھی ہونگے اور اُن کے وسائل پر غیر پختون قابض بھی ہونگے

شیئر کریں