پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ 31 اکتوبر کو اے این پی کارکنا ن صبح 11 بجے رشکئی انٹرچینج سے اسلام آباد آزادی مارچ میں شرکت کیلئے روانہ ہونگے، اے این پی رہبر کمیٹی اور اپوزیشن کے فیصلوں کی پابند ہے اور جب تک وہ چاہے اے این پی کارکنان اسلام آباد میں موجود ہوں گے، اب یہ مارچ ایک سیاسی پارٹی کا مارچ نہیں رہا بلکہ جتنے بھی فیصلے ہوں گے وہ سب مشترکہ طور پر طے کیے جائیں گے۔ہمارے کارکنان کے ساتھ ڈنڈے نہیں ہونگے،اُن کے ہاتھوں میں جھنڈے ہونگے اور اُن جھنڈوں میں ڈنڈے ہونگے۔ پشاور پریس کلب میں صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک اور صوبائی ترجمان صدرالدین مروت کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی خیبرپختونخوا کے کارکنان کے جمع ہونے کا پوائنٹ رشکئی انٹرچینج ہوگا، اے این پی کی مشاورتی کمیٹی اجلاس نے آج اس فیصلے کی توثیق کی ہے کہ ہم آزادی مارچ میں مکمل طور پر شریک ہیں، اے این پی خیبرپختونخوا کی تنظیمیں جمیعت علمائے اسلام کی تنظیموں سے مل کر صوبے سے لیکر یونین کونسلز تک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں گی، جو حالات آئیں گے، ان کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا، اے این پی کے حوالے سے پروپیگنڈہ کیا جارہا تھا کہ اے این پی آزادی مارچ سے الگ ہوجائے گی، صوبائی صدر نے کہا کہ اے این پی نے اُن ادوار میں جمہوریت، اداروں کی مضبوطی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے جنگ لڑی ہے جب اس ملک میں کوئی اور اُس حوالے سے آواز نہیں اُٹھاتا تھا،آج یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں اداروں کی مضبوطی،جمہوریت کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے آواز اُٹھائیں اور اے این پی اُس کا حصہ نہ ہو،آج کی پریس کانفرنس اُن پروپیگنڈہ کرنے والوں کیلئے بھی جواب ہے جو مختلف بہانوں سے اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کی آزادی مارچ کے حوالے سے تیاریاں مکمل ہیں،اے این پی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہم تحاریک میں شامل رہے ہیں تو صف اول میں ہماری قیادت کھڑی رہی اور سب سے زیادہ مارشل لاز اور تحاریک میں ٹارچر بھی ہم ہوئے ہیں۔ اگر اس تحریک میں بھی گرفتاریاں ہوتی ہیں تو اے این پی اُس حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دے چکی،آخری ورکر تک اے این پی اس تحریک کا حصہ رہے گی۔ صوبائی صدر نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں قیام کتنے دنوں تک ہوگا،یہ فیصلہ اے این پی نے اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی پر چھوڑا ہے،رہبر کمیٹی کا اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اے این پی کا فیصلہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک پارٹی چار نکات لیکر اسلام آباد جارہی ہے،جب تک ان نکات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا تو واپس آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایمل ولی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں ایک بار حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے پکڑ دھکڑ کی تو اسلام آباد کی بجائے پورا ملک جام کر دیا جائے گا، حکومت سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرے اور سیاسی ورکرز کو سیاسی طریقے سے ہی ڈیل کرے، اگر حکومت کو گرفتاریوں اور رکاوٹوں کا اتنا ہی شوق ہے تو اے این پی خیبر پختونخوا آج سے اعلان کرتی ہے کہ اگر صوبے میں پکڑ دھکڑ ہوئی تو اے این پی پورے صوبے کو بلاک کرے گی،ہمارے کارکنان کے ساتھ ڈنڈے نہیں ہونگے،اُن کے ہاتھوں میں جھنڈے ہونگے اور اُن جھنڈوں میں ڈنڈے ہونگے۔۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی ووٹ کے تقدس، پارلیمنٹ کی بالادستی،آئین کی حفاظت اور آئین کا بول بالا کرنے کیلئے آزادی مارچ کا حصہ ہے، سلیکٹڈ حکومت سے آج ہر طبقہ پریشان ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ میڈیا ورکرز سے لیکر وکلاء، ڈاکٹرز برادری، اساتذہ اور دیگر طبقات آزادی مارچ کا حصہ ہوں گے، اب یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ سیاسی مطالبات کرنے والوں کے ساتھ سیاسی رویہ اپنایا جاتا ہے یا گولی اور ڈنڈے سے لوگوں کا استقبال کرتی ہے، اگر حکومت کا فیصلہ گولی اور ڈنڈا ہے تو اے این پی پہلے بھی گولی اور ڈنڈے کی سرکار کی مخالف تھی اور آج بھی ہے۔ایمل ولی خان نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے صحت کے حوالے سے حکومتی رویے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ جب نواز شریف کو پانچ میڈیکل بورڈز نے ہسپتال لے جانے کی سفارش کی تھی تب سلیکٹڈ حکومت اُن کو ضمانت نہیں دے رہی تھی،آج جب اُس کی حالت تشویشناک ہوئی تو اُن کو ہسپتال منتقل کیا گیا اور اُس کے باوجود بھی حکومتی وزراء نے ایسے بیانات جاری کیے کہ اُس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے،ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر میاں نواز شریف اور زرداری کو کچھ ہوا اور تو اُس کا ردعمل ایسا آئیگا کہ وہ پھر حکومت کے کنٹرول میں بھی نہیں رہے گا۔