2019 October افغان امن مذاکرات سبوتاژ کرنیوالے پاکستان اور افغانستان کے دشمن ہیں،میاں افتخارحسین

افغان امن مذاکرات سبوتاژ کرنیوالے پاکستان اور افغانستان کے دشمن ہیں،میاں افتخارحسین

افغان امن مذاکرات سبوتاژ کرنیوالے پاکستان اور افغانستان کے دشمن ہیں،میاں افتخارحسین

پشاور(جنرل رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ عدم تشدد کے فلسفے کے ذریعے ہی دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے، آج اگر اس جنگ زدہ معاشرے کو امن چاہئیے تو عدم تشدد کی راہ اپنانی ہوگی۔ افغان امن مذاکرات میں افغانستان کی منتخب حکومت کو نظرانداز کرنے سے پاکستان اور افغانستان سمیت پورا خطہ ایک نئی جنگ کا شکار ہوگا۔ باچاخان مرکز پشاور میں عدم تشدد کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو اس نظریے کا پرچار کرنا ہوگا کیونکہ یہی ایک راستہ کامیابی کا راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عدم تشدد کے ذریعے کئی لوگ ہمیں ختم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ خود ختم ہوگئے اور ہم موجود ہیں، پاکستان کیساتھ ساتھ پوری انسانیت کیلئے عدم تشدد کا فلسفہ چاہتے ہیں۔ اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو بھی بتانا چاہتے ہیں کہ عدم تشدد کے فلسفے کو اپنائے، پہلے دن سے یہی کہہ رہے ہیں کہ جب تک خارجہ پالیسی یہی رہے گی، حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔افغان امن عمل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ تعطل کا شکار مذاکراتی سلسلہ جلد سے جلد بحال کیا جائے لیکن تمام تر عمل میں اصل فریق کو ابھی تک نظرانداز کیا گیا ہے، اگر طالبان کیساتھ بات کرنی ہے تو افغانستان کی منتخب حکومت کو بھی اس کا حصہ بنانا ہوگا،مذاکرات اس وقت تک کامیاب نہیں ہوں گے جب تک افغانستان میں جاری جنگ میں دونوں جانب سے سیزفائر کا اعلان نہ ہو۔ پاکستان کے کردار بارے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان ایک سہولت کار کے طور پر کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ وہ دونوں جانب اثرورسوخ رکھتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ امریکا،چین اور روس کو گارنٹر کے طور پر اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ جو بھی مخالفت کریں اسکے ساتھ معذرت خواہانہ رویہ نہ اپنایا جائے، چالیس سال سے جاری اس جنگ سے سب سے زیادہ نقصان پشتون خطہ کو اٹھانا پڑرہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائے۔انہوں نے کہا کہ افغان امن مذاکرات کو کشمیر سے جوڑنا سراسر زیادتی ہے،یہ کہنا کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہورہا تو افغانستان کا مسئلہ بھی حل نہیں ہونا چاہئیے، ایسا رویہ اس خطے کو ایک اور خطرناک جنگ کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے، جو بھی افغان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا وہ اصل میں پشتونوں، پاکستان اور افغانستان کے دشمن ہیں۔ عمران خان کے حالیہ دورہ امریکا اور جنرل اسمبلی میں خطاب پر گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ تقریروں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مان لیتے ہیں کہ تقریر اچھی رہی لیکن عوام جان چکی ہے کہ کشمیر کا سودا ہوچکا ہے،نادیدہ لوگوں نے صرف تقریر پر ایسا استقبال کیا جیسے کشمیر کو فتح کرلیا۔تقریر اپنی جگہ اور کشمیر اپنی جگہ، تقریروں پر کشمیر کو فتح نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں اور شملہ معاہدے کے تحت حل ہونا چاہئیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں کرفیو ختم ہونی چاہئیے، اگر پاکستان نے سنجیدہ رویہ نہ اپنایا تو آزاد کشمیر بھی ہاتھ سے جاسکتا ہے۔کشمیر کشمیریوں کا ہے اور انہیں حق خودرادیت حاصل ہے، کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، انکے پاس تمام آپشن موجود ہیں اگر وہ پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کیساتھ اور یا وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ ان سے یہ حق نہ پاکستان لے سکتا ہے اور نہ ہی ہندوستان۔ انہوں نے کہا کہ عدم تشدد کے نظریے کا مقصد ظلم سہنا نہیں بلکہ ظلم کیخلاف صبر کا پہاڑ بن کر اسکے خلاف خاموش احتجاج ہے، اس نظریے کو خود اپنانا ہوگا اس کے بعد دوسروں کو اس کی تبلیغ و تشریح کرنی ہوگی

شیئر کریں