پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کی صوبائی مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ باچا خان اور ولی خان کی برسی تقریبات کو اس بار صرف پشاور میں منانے کی بجائے صوبہ بھر میں تقاریب اور بڑے جلسہ عام کا انعقاد کرکے منایا جائیگا،پشاور ڈویژن میں بڑا جلسہ عام 20جنوری،ملاکنڈ ڈویژن میں 26جنوری،جنوبی اضلاع میں 22جنوری جبکہ ہزارہ ڈویژن کا جلسہ عام 24جنوری کو منعقد کیا جائیگا۔اسی طرح اس بار بھی پچھلی سال کیطرح ہفتہ بھر باچا خان مرکز میں برسی تقریبات کے حوالے سے مختلف سٹالز لگائے جائینگے،جس کا باقاعدہ افتتاح 20جنوری کو صبح باچا خان مرکز میں کیا جائیگا۔باچا خان مرکز پشاور میں صوبائی صدر ایمل ولی خان کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی مجلس عاملہ کی اجلاس میں صوبائی مجلس عاملہ کی اجلاس میں یہ بھی بتایا گیاا کہ اس بار صوبائی کابینہ اور دیگر پارٹی رہنماء ہفتہ باچا خان کے حوالے سے جلال آباد افغانستان کے دورے پر بھی غور کیا جارہا ہے اور وہاں پر بابائے امن باچا خان کی مزار پر حاضری دی جائیگی،صوبائی مجلس عاملہ نے وزیرستان امن مارچ کی منظوری بھی دی اور اس سلسلے میں کہا گیا کہ اے این پی خیبرپختونخوا جلد وزیرستان تک امن مارچ کریگی،امن مارچ دو دن پر محیط ہوگا اور وزیرستان کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کیا جائیگا کہ پختون امن پسند اور عدم تشدد کے داعی ہیں۔اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بجلی کی مد میں صوبے کے بقایاجات کے حصول کیلئے آخری حد تک جدوجہد کی جائیگی کیونکہ صوبہ اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے اور صوبہ آج اس قابل بھی نہیں ہے کہ وہ تنخواہ دار طبقے کو تنخوائیں بھی دے سکیں۔اجلاس میں معدنیات کے حوالے سے پاس ہونے والے بل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ معدنیات کے حوالے سے بل کے نتیجے میں تبدیلی سرکار اپنے انوسٹرز کو مالی فوائد پہنچانا چاہتے ہیں اور عددی اکثریت کے بنیاد پر نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام پر اس قانون کا اطلاق کیا گیا ہے۔اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ معدنیات کے حوالے سے بل کے خلاف آخری حد تک کوشش کی جائیگی اور اے این پی اس حوالے سے عدالت اور پارلیمنٹ کے فورم کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی آئیگی۔اس کے علاوہ صوبائی مجلس عاملہ کی اجلاس میں صوبائی صدر ایمل ولی خان کے مختلف اضلاع کے دوروں کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے جو دسمبر کے آخرتک جاری رہینگے۔صوبائی مجلس عاملہ کی اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اے این پی متحدہ اپوزیشن اور رہبر کمیٹی کے ہر فیصلے کی تائید کریگی اور آخر تک جمہوریت کی اصل شکل میں بحالی،پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کیلئے جدوجہد کرتی رہی گی۔اجلاس میں پارٹی کو دوبارہ منظم بنانے کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز کی منظوری دے دی گئی،اسی طرح ضلعی صدور نے تحریری طور پر صوبائی مجلس عاملہ کو کارکردگی رپورٹ بھی پیش کیے۔