پشاور(جنرل رپورٹر)اے این پی کے پارلیمانی لیڈر و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کل بارہ بجے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے گی۔ صوبے کے وسائل کی غیر منصفانہ، سیاسی اور ذاتی بنیادوں پرتقسیم صوبے کے عوام کیساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے وسائل پر صوبے کے عوام کا برابر کا حق ہے، صوبے کے ٹیکس سمیت حکومتی واجبات بر وقت ادا کرتے ہیں صوبے کے اپوزیشن ممبران کے علاقوں کو صرف اسلئے نظراندازکیاجاتاہے کہ انہوں نے اپوزیشن ممبران پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وضاحت کرے کہ کون سے آئین، قانون اور ضابطے کے تحت صوبائی وسائل اپوزیشن ممبران کے علاقوں میں استعمال کرنے پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ممبران کی رٹ پٹیشن میں حکومت کو پابند بنایاگیا ہے کہ وہ صوبے کے وسائل ضرورت اور برابری کی بنیاد پر استعمال کرنے کی پابند ہے لیکن ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود حکومت اقربا پروری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو کہ توہین عدالت ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام علاقوں کو بلا امتیاز ترقی کی راہ پر گامزن کرنا حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے لیکن بد قسمتی سے حکومت اقرباء پروری اور حکومتی اختیار کے ناجائز استعمال پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کے حقوق کی جنگ ہر فورم پر لڑیں گے۔ اپوزیشن اپنے علاقوں کے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ ان کے حقوق کی جنگ ہر فورم اور محاذ پر لڑے گی اور عوام کے حقوق کی جنگ سے دستبردار نہیں ہوگی۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈرنے کہا کہ اپوزیشن کے ممبران روزانہ 12بجے سے 6 بجے تک سی ایم ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاج کریں گے اور یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا۔ جب تک صوبائی حکومت و سائل کی تقسیم میں نا انصافی اور اقربا پروری کی پالیسی سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام ممبران کل بروز منگل 11;30 بجے صوبائی اسمبلی اپوزیشن چیمبر میں جمع ہوں گے اور بارہ بجے سی ایم ہاؤس کے سامنے احتجاجی کیمپ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔