پشاو(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے پختون ایس ایف کو قومی تحریک کا فعال دست و بازو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو اغیار کی سازشوں اور پشتون دشمن منصوبوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، پشتونوں کو بحیثیت قوم صرف اور صرف اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ حق کا ساتھ دینا اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانا ان کی فطرت میں شامل ہے، پشتون سرزمین کو اللہ تعالی نے جن نعمتوں اور خزانوں سے مالا مال کیا ہے آج بھی اگر پشتو ن باچاخان کے فکر و فلسفے سے رجوع کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں تو درپیش مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن(آزاد) کے عوامی نیشنل پارٹی اور پشتون ایس ایف میں انضمام کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ تمام پشتون باچاخان کے فکر وفلسفے پر عمل کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کا ثبوت دیں جو نوجوان گئے تھے وہ واپس اپنی قومی جماعت میں آگئے ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ نوجوان اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔تقریب سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی، پی ایس ایف آزاد کے صوبائی صدر ایمل خان، پشتون ایس ایف کے صوبائی چیئر مین عالمگیر خان مندوخیل و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ایمل ولی خان نے پی ایس ایف آزاد کے اے این پی و پشتون ایس ایف میں انضمام کا خیرمقد م کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں ایک عجیب سی صورتحال بنی ہوئی ہے جمہوریت کے استحکام اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے عوامی نیشنل پارٹی دیگر جمہوری سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کررہی ہے مگر عوام دشمن حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ ہم نے پہلے بھی بار بار کہا ہے اور آج بھی کہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوری پارلیمانی نظام کے قیام، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور جمہوری ادارو ں کے استحکام کے لئے تمام جمہوری سیاسی قوتیں ہم آواز اور ہم قدم ہوجائیں۔ موجودہ حکمرانوں کو عوام کی کوئی فکر نہیں، ان کے ہوتے ہوئے عوام کے مسائل میں کبھی کمی نہیں آسکتی، بلکہ مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ملک کو عالمی اداروں کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا گیا ہے اور عوام پر آئے روز نت نئے ٹیکسز عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں نے گزشتہ چالیس سالوں کے دوران بہت کشت و خون دیکھا ہے پشتونوں کی سرزمین پر ایک ایسی جنگ لا کر مسلط کی گئی جو ہماری جنگ تھی ہی نہیں،یہ جنگ ہم پر مسلط کردی گئی اور اس کی زد میں پشتون وطن کا کونہ کونہ جل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں نے بحیثیت قوم ہمیشہ امن اور ترقی کی بات کی اور تمام اقوا م کے ساتھ برابری کی بنیاد پر برادرانہ تعلقات استوار کرتے ہوئے حق اور سچ کا ساتھ دیا