پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ 25جولائی کو یوم سیاہ اور احتجاجی جلسہ عام کے حوالے سے تیاریاں آخری مرحلے میں ہیں، خیبر پختونخوا میں کو آر ڈینیشن کمیٹی نے کام مکمل کر لیا ہے، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی تنظیموں کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور مظاہرے میں شرکت کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں رہبر کمیٹی کے اجلاس اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان،مولانا فضل الرحمان،آفتاب احمد خان شیرپاؤ سمیت دیگر جماعتوں کے مرکزی قائدین 25جولائی کو پشاور میں یوم سیاہ کے موقع پر احتجاجی جلسہ سے خطاب کریں گے،جبکہ رہبر کمیٹی کے تمام ممبران بھی اس جلسہ عام میں شریک ہونگے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ناکام رہا اور اس دورے کی وجہ سے ملک اور پاکستانیوں کی جگ ہنسائی ہوئی، انہوں نے استفسار کیا کہ آرمی چیف سلیکٹڈ وزیر اعظم کو اپنے ساتھ ایک جہاز میں کیوں نہیں لے کر گئے،قوم کا پیسہ الگ الگ برباد کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ دورہ امریکہ میں کئی سولات کھڑے کر دیئے ہیں اور بنیادی تاثر یہی مل رہا ہے کہ در حقیقت امریکی دورہ آرمی چیف کا تھا جبکہ سلیکٹڈ اعظم صرف خانہ پری کیلئے ساتھ گئے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ کسی امریکی سرکاری عہدیدار نے استقبال نہ کر کے سلیکٹڈ وزیر اعظم کو آئینہ دکھایا ہے، وزیر اعظم نے امریکہ کو بھی ڈی چوک سمجھا اور سیاسی انتقام پر مبنی کنٹینر والی تقریر پڑھ کر اپنے سلیکٹڈ ہونے کا ثبوت دیا، انہوں نے کہا کہ مذکورہ تقریب پر آنے والے اخراجات امریکی خزانے سے ادا نہیں کئے گئے۔
مرکزی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے پاس سینیٹ ممبران کے نمبرز مکمل ہیں اور جہانگیر ترین و مشیر اطلاعات خوش فہمی میں مبتلا ہیں، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے بلائے گئے اجلاس میں 62ممبران سے شرکت کی جبکہ دو ارکان سینیٹ علیل ہیں اور اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے53ارکان درکار ہیں اور اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کی وکٹ باآسانی گرا لے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رائے کا احترام پامال کر کے لائے گئے کٹھ پتلی سلیکٹڈ اعظم کا جانا اٹل ہے اور اپوزیشن ملک وقوم کو ملک دشمن حکمرانوں سے نجات دلا کر رہے گی۔