پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ ایک عدالتی فیصلے کو عدالت ہی تبدیل کرسکتی ہے جس کیلئے آئینی و قانونی راستہ موجود ہے۔ پرویزمشرف ایک ریٹائرڈ آرمی چیف ہیں جو ایک سیاسی جماعت کے سربراہ تھے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کی طرح ان کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔ اس فیصلے پر شاید ہی عمل ہو لیکن فیصلے سے تاریخ بن گئی ہے۔ امان گڑھ میں تحصیل نوشہرہ کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ ملک کیلئے قربانی دینے والوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، اسٹیبلشمنٹ نے صرف عمران خان کو خوش کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں دیوار سے لگایا، شفاف انتخابات ہوتے تو آج صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت ہوتی۔ ایک نشست جیتنے والے کو پورا ملک جھولی میں دے دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں ایک حلقہ کھولا گیا تو 52ہزار جعلی ووٹ نکل آئے۔ اگر اسی طرح شفاف تحقیقات ہو تو سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کی حقیقت سب پر آشکارا ہوجائیگی۔ مشرف کے خلاف فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ مشرف کے خلاف سے زیادہ بیانات عمران خان کے ہیں جب وہ اپوزیشن میں تھے تو مشرف پر آرٹیکل 6لگانے کی بات کرتے تھے،انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا لیکن یوٹرن خان نے اس معاملے پر بھی یوٹرن لیا۔انہی عدالتوں نے تین بار وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونیوالے نوازشریف کو گھر بھیجا، یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا، تو آج ایک سابق آرمی چیف جو سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں،کے خلاف فیصلے دینے پر اتنا واویلا کیوں مچایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں کے دوران عوام فوج کے ساتھ کھڑی رہی ہے، اس ملک میں انصاف کیلئے ضروری ہے کہ آئین کی بالادستی اور انصاف پر مبنی فیصلے ہو، عوام کو انصاف ملے تو ہر ادارے کو ساتھ دینا چاہیے تاکہ ملک میں کسی طاقتور یا کمزور کا تصور جنم نہ لے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے چار مطالبات آج بھی موجود ہیں، گذشتہ انتخابات دھاندلی زدہ تھے،وزیراعظم اسی انتخابات کا نتیجہ ہیںاور انہیں استعفیٰ دینا ہوگا۔ نئے شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زیرنگرانی کرائی جائے۔ آئین کی بالادستی بھی ہمارا مطالبہ ہے، آئین میں ہر ادارے کے اختیارات متعین ہیں اور اسی دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے پارلیمنٹ کی سپرمیسی کو ماننا ہوگا۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ ہم نے جو مئوقف اپنایا اس کو آج کئی دہائیوں بعد مانا جارہا ہے ،ہم اس ملک کے باشندے ہیں اور ملک کے نظام کو مضبوط کرنے کیلئے روز اول سے کوششیں کررہے ہیں، ہم کسی بھی الزام یا دھمکی سے ڈرنے والے نہیں۔پہلے ہی بتایا تھا کہ افغانستان میں دخل اندازی نہ کریں،بعد میں اپنے لوگ یہ حقیقت مان چکے ہیں۔ہم نے افغان جنگ کو روس اور امریکا کی جنگ کہی تھی لیکن باچاخان کی بات کو چالیس سال بعد ماننے والوں نے اس وقت انہیں ایجنٹ کا خطاب دیا تھا۔ آج ہم ایک بار پھر متنبہ کررہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہورہے ہیں جنکے خلاف اگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو خدانخواستہ یہ خطہ ایک نئی جنگ کی طرف جائیگا۔ دہشت گرد ختم نہیں ہوئے بلکہ خاموش ہوگئے ہیں، بھتے لیے جارہے ہیں، اغواء کے واردات جاری ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد بنائے گئے 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔پنجاب میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ موجودہ حکومت تو انہیں ترقیاتی بجٹ میں فنڈز مختص کررہی ہے۔ اگر ان دہشت گردوں کے خلاف اب مضبوط کارروائی نہیں کی گئی تو بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔