پشاور( پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کے خلاف اقدامات اٹھارہی ہے، نیب ترمیمی آرڈیننس اصل میں پارلیمنٹ کی توہین ہے جس کے ذریعے اپنوں کو بچانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے، یہ دراصل امتیازی احتساب کی جانب ایک اور تیز قدم ہے۔ اسلام آباد میں رہبر کمیٹی اجلاس میں شرکت کے بعد جاری بیان میں میاں افتخارحسین نے نیب ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ نیب بارے ترمیم ایک اپوزیشن رکن پارلیمنٹ لاچکی ہے جسے سٹینڈنگ کمیٹی منظور بھی کرچکی ہے لیکن سینیٹ کا اجلاس نہیں بلایا جارہا تاکہ وہاں یہ بل پاس کیا جاسکے اور اسی عجلت میں نیب ترمیمی آرڈیننس کا نفاذ کردیا گیا۔پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت کی بالادستی ہے لیکن موجودہ حکومت معاملات کو پارلیمنٹ میں لانے کی بجائے سولو فلائیٹ اور آرڈیننس کے ذریعے ملک کے نظام کو کمزور کررہی ہے۔مشرف کے خلاف فیصلے بارے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے متفقہ طور پر اس فیصلے کی حمایت کی ہے کیونکہ غداری کیس میں واضح طور پر آئین و قانون کے ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا گیا ہے، یہ حتمی فیصلہ نہیں اور فیصلے پر رائے دینے کا حق بھی ہر کسی کو حاصل ہے لیکن یہ فیصلہ صرف عدالت ہی تبدیل کرسکتی ہے۔ اگر کسی کو اختلاف بھی ہے تو جب تک عدالت نے دوسرا فیصلہ نہیں دیا،ا س پر عملدرآمد ہوگا۔آئین میں غداری کی وضاحت کی گئی ہے اور مشرف اس غداری کا مرتکب ہوا۔ آئین شکن کی حمایت کرنیوالے جمہوری اذہان نہیں بلکہ آمریت کے پیداوار ہیں۔ ملک میں جاری احتساب بارے میاں افتخارحسین نے کہا کہ شاہدخاقان عباسی پر ابھی تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوا، اسی الزام کی بنیاد پر گرفتار دو افراد کو ضمانت مل چکی ہے لیکن سابق وزیراعظم ابھی تک جیل میں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو نیب کے ذریعے اس لئے ہراساں کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے مشرف فیصلے کی حمایت کی۔ احسن اقبال کو بھی اسی کی پاداش میں جیل بھیج دیا گیا۔ ایک معزز جج بلاول بھٹو بارے ریمارکس بھی دے چکے ہیں کہ والد کے معاملات سے انکا کیا تعلق ؟ پھر بھی نیب نیازی گٹھ جوڑ کے ذریعے اپوزیشن رہنمائوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔راناثناء اللہ کی ضمانت نے بھی جانبدارانہ احتساب کا ڈرامہ ایکسپوز کردیا ہے۔ حکومتی وزیر کے جھوٹے بیانات سے ثابت ہوگیا کہ نیب سمیت دوسرے ادارے سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیے جارہے ہیں۔ کرپشن کے خلاف نعرے لگانے والے خود بی آرٹی سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقات سے بھاگنے کیلئے عدالتی سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی ابھی تک اسلئے نہیں ہورہا کیونکہ وہاں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس چل رہا ہے اور پی ٹی آئی خود احتساب سے بھاگ رہی ہے۔