پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے صوبہ بھر میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں خوفناک اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ”صحت کا انصاف“ پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے، بعض اخبارات میں شائع ہونے والی سروے رپورت پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف تین ماہ کے دوران دو ہزار سے زائد بچوں اور دوران زچگی سو سے زائد خواتین کی اموات حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، ثمر ہارون بلور نے کہا کہ شعبہ صحت میں ناقص منصوبہ بندی اور سہولیات کی عدم فراہمی پر حکومت جواب دہ ہے، تبدیلی کے نام پر صوبے میں گذشتہ 6سال کے دوران صرف اموات دیکھنے کو ملیں جبکہ عوام کی بہتری کیلئے کوئی ٹھوس پلاننگ نہیں کی گئی، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس نازک صورتحال کا ذرا بھی ادراک نہیں اور حکومت کی بے حسی کے باعث آئے روز معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ صحت کا انصاف پروگرام محض ڈھونگ ثابت ہوا اور عوام کے کروڑوں روپے اس پروگرام کی تشہیر پر اڑا دیئے گئے، انہوں نے حکومت کی ہیلتھ پالیسی اور کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو صوبے اور عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں ہے وہ اپنی توانائیاں غیر ضروری کاموں پر خرچ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور صوبے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے موذی امراض اور ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات و ادویات میسر نہ ہونے کی وجہ سے انسانی جانوں کا ضیاع روزانہ کا معمول بن گیا ہے،ثمر بلورنے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر ضروری کاموں میں وقت ضائع کرنیکی بجائے عوام کی حالت زار پر توجہ دیں اور خصوصاً ہیلتھ پالیسی کو فعال بنا کر ہسپتالوں میں بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے مناسب اور ٹھوس اقدامات کرے۔