پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا چیف ایگزیکٹیو اور وزیر ٹرانسپورٹ کے حیثیت سے بی آر ٹی کا ذمہ دار ہے،اب اگر وزیر اعلیٰ افتتاح کے موڈ میں نہیں ہے تو حکومتی ترجمان کس بنیاد اور حیثیت سے افتتاح کی باتیں کررہا ہے؟شوکت یوسفزئی بی آر ٹی کے حوالے سے کیوں عوام میں کنفیوژن پیدا کررہا ہے،جہاں چیف ایگزیکٹیو افتتاح کا مخالف ہے وہاں میڈیا میں بی آر ٹی کی تکمیل کے دعوے کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایک بی آر ٹی کی وجہ سے صوبائی حکومت کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آچکا ہے کہ یہ نہ صرف کرپٹ ہے بلکہ نا اہل ترین بھی ہے کیونکہ اٹھارہ بار بی آر ٹی کے نقشے میں تبدیلی کی گئی ہے ،اب اگر ایک بار فیزیبیلٹی رپورٹ تیار ہوتی ہے تو اٹھارہ بار اس میں تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فیزیبیلٹی رپورٹ کے بغیر بی آر ٹی پر کام شروع کیا گیا ہے جو الگ سے سرکاری طور پر ایک بہت بڑا جرم ہے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ دوسروں کے بس منصوبوں کا مذاق اڑانے والے خود اپنے بی آر ٹی کی وجہ سے نشان عبرت بنتے جارہے ہیں ،عوام سے بی آر ٹی پر معافی مانگنے کی بجائے صوبائی وزراء اگر ایک طرف بی آر ٹی کے پلوں کے نیچے کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف عوام میں بی آر ٹی کے حوالے سے کنفیوژن بھی پھیلائی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کیوجہ سے پشاور مسائلستان میں تبدیل ہوچکا ہے ،اگر ایک طرف ایک بارش نے پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا تھا تو دوسری طرف پشاور کے عوام ٹیلی فون،بجلی،گیس اور سیوریج کے مسائل کا سامنا بھی کررہے ہیں،اب حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو بتائیں کہ بی آر ٹی کے حوالے سے اُن کی تیاری کیا تھی؟قوم کے پیسوں کو بے دردی سے اڑایا جارہا ہے اور اس کے باوجود بھی بی آر ٹی پر وہ نیب خاموش ہے جو شک کے بنیاد پر بھی اپوزیشن کو طلب کرتی ہے،انہوں نے کہا کہ 37ارب سے شروع ہونے والا منصوبہ 120ارب تک پہنچ گیا ہے اور اس سارے ڈرامے پر نیب کے ساتھ ساتھ وہ عمران خان بھی خاموش ہے جو عوام کے پیسوں کی تحفظ کی قسمیں کھاتا تھا،کیا عوام کے پیسوں کی تحفظ اسی طرح کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر منصوبوں کیلئے باقاعدہ ڈیزائن اور سپروژن کا انتظام پہلے سے کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے بی آر ٹی کیلئے ایسا کوئی راستہ نہیں اپنایا گیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے پشاور کے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔اس سارے صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ 120ارب روپے پر پشاور کے عوام کیلئے مصیبت کا تحفہ دیا جارہا ہے کیونکہ بی آر ٹی کی تکمیل کے بعد بھی پشاور کی عوام کی جان خلاصی نہیں ہوگی۔