2019 ملکی سلامتی کے معاملے پر عمران کی بجائے ملک کا ساتھ دیں گے،میاں افتخار حسین

ملکی سلامتی کے معاملے پر عمران کی بجائے ملک کا ساتھ دیں گے،میاں افتخار حسین

ملکی سلامتی کے معاملے پر عمران کی بجائے ملک کا ساتھ دیں گے،میاں افتخار حسین

پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ کشمیر کے ایشو پر ہم سب متحد ہیں اور ملک کی بقا کے معاملے پر حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے،عمران نیازی کا رویہ اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کیلئے ہے، حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو کمزور کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہو گی، اسلام آباد میں رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر اور افغانستان پاکستان کے دو رستے ہوئے زخم ہیں، ان میں سے کشمیر کا سودا حکمران خود کر چکے ہیں، تاہم کشمیر ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے،حکومت چاہے جو رویہ اپنائے ہم اس اہم ایشو پر عمران اور حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے بلکہ صرف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اپنی کوئی حیثیت ہی نہیں اس کے پیچھے موجود قوتوں کی سوچ و فکر کی بھی ہم پرواہ نہیں کرتے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ملکی بقا داؤ پر لگانے پر تلی ہے اور ہم ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے والوں کا ساتھ نہیں دے سکتے، پاکستان کی بقا کا سودا کرنے والی ہر قوت کا مقابلہ کریں گے، انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ الجھانے کے بعد اب افغانستان کا مسئلہ چھیڑا جا رہا ہے، گزشتہ چالیس سال سے افغانستان اور پاکستان میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے، آج ایک بار پھر وہاں دہشت گردی کو منظم کرنے کی سازش زور پکڑ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ متنازعہ بیانیہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں، پاکستان کے عوام با شعور ہیں اور وہ اپنے مسائل بات چیت سے کم کرتے ہیں یا پھر ختم کر دیتے ہیں، ہم افغانستان کا مسئلہ الجھنے نہیں دیں گے، اگر ایک بارڈر پر خطرہ ہے تو کیا دوسرے پر بھی خطرہ ہوگا؟ افغان امن عمل ہر صورت جاری رہنا چاہئے اور تمام فریقین کی شمولیت اس میں ضروری ہے، انہوں نے مریم نواز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب جانبدارانہ کردار ادا کر رہا ہے، انہوں نے نیب اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے والوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ کوئی بھی ادارہ آزاد نہیں، عدلیہ درست اندازمیں کام نہیں کر پا رہی، ملک میں ڈرامہ جاری ہے اور حکومت کی جانب سے کشمیر کے سودے کا پول کھلنے کے بعد اب اپوزیشن کی گرفتاریوں کے ذریعے لوگوں کی توجہ دوسری جانب مبذول کرائی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو اب چین کا دورہ یاد آیا یہ دورہ پہلے بھی کیا جا سکتا تھا، لیکن اس وقت سب امریکہ کو خوش کرنے میں لگے تھے کیونکہ وہاں کشمیریوں کے خون کا سودا کرنا تھا، انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے کہا کہ تمام ممبران کی اجلاس میں شرکت ضروری ہے لیکن علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر تعصب کی بنیاد پر جاری نہیں کئے جا رہے، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے شہری ہیں اور قیدیوں والا سلوک کبھی برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ عید کے بعد مولانا فضل الرحمان کی اے پی سی میں شرکت کی جائے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہٹ دھرمی نہ چھوڑی تو اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا جو حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

تبصرہ کیجئے
شیئر کریں