پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے سینیٹ میں کی گئی بدترین ہارس ٹریڈنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کو پامال کرنے میں تحریک انصاف اور مخصوص قوتوں نے اہم کردار ادا کیا اور ثابت کیا کہ وہ حقیقت میں جمہوریت کے دشمن اور پارلیمان کو یرغمال بنائے رکھنا چاہتے ہیں،اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کے اہم اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ایک مرتیہ پھر شرمناک ہارس ٹریڈنگ ہوئی اور عوام نے اپنے نمائندوں کو بڑی بولی لگانے والوں کے ہاتھوں کھیلتے دیکھا، یہ سیاست اخلاقی زوال کی علامت ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ضمیروں کی ایسی تجارت دنیا کی کسی جمہوریت میں دیکھنے کو نہیں ملتی، صبح تک چیئرمین سینیٹ استعفی دینے کو تیار تھے لیکن خفیہ پیغام کے بعد وہ اپنے فیصلے سے دستبردار ہوگئے،جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا کھیل کھیلا،انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ بوری کے پیچھے بیٹھ کر جمہوری قوتوں پر وار کر رہی ہے لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا، انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے ملک و قوم کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، مستقبل قریب میں انہیں عوامی غضب کا سامنا کرنا پڑے گا، جن لوگوں نے ایمان اور ضمیروں کا سودا کیا ہے اور خرید و فروخت کی منڈی لگائی ہے اْنہوں نے جمہوریت پر وار کیا ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے چیئرمین سینیٹ کو بچانے کیلئے جو حربہ اختیار کیا گیا ہے اس سے ملک کی سالمیت، استحکام اورجغرافیہ خطرے میں پڑجائے گا،انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک ہر صورت جاری رہے گی اور سول ڈاکٹیٹر شپ کے خلاف میدان میں موجود رہیں گے، انہوں نے کہا کہ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے اور اسٹیبلشمنٹ جمہوری معاملات میں فریق بننے سے گریز کرے۔