پشاور (پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے معروف بزرگ صحافی، کالم نگار اور سابق مشیروزیراعظم عرفان صدیقی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی ناکام حکومت اظہار رائے پر پابندی لگانے کی کوشش میں ہیں جسے برداشت نہیں کیا جائیگا، عرفان صدیقی ایک نامور صحافی اور کالم نگار ہے لیکن انہیں سابق وزیراعظم نوازشریف کے مشیرہونے کی سزا دی جارہی ہے۔ اسلام آباد انتظامیہ نے کرایہ داری ایکٹ میں انہیں گرفتار کرکے پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کا بھانڈا مزید پھوڑ دیا۔باچاخان مرکز پشاور سے جاری کردہ ایک بیان میں میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بنی گالہ میں قبضہ کرکے گھر بنایا جس کا ریکارڈ بھی موجود ہے مگر انہیں ابھی تک کسی نے گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی،غیرقانونی طور پر بنی گالہ میں محل بنانے والے کو گرفتار کرنے کے بجائے کاغذات درست کرنے کی مہلت دی گئی۔ لیکن عرفان صدیقی کو ایک نام نہادایف آئی آر کے ذریعے گرفتار کرکے اپوزیشن اور حقیقی صحافیوں کو دبانے کی ناکام کوشش کی گئی۔اسٹیبلشمنٹ نے اپنا قبلہ درست کرنے کے لئے عمران خان جیسے نااہل شخصیت کو وزیراعظم بناکے قوم پر ایک بڑا عذاب نازل کیا جس کا خمیازہ آنیوالی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے پورے ملک میں کامیاب جلسوں نے حکومت کے ہوش اڑا دئیے، حکومتی ترجمان حواس باختہ ہوچکے ہیں، پورے ملک میں عوامی ردعمل کا بلیک آؤٹ کیا گیا، میڈیا پر غیراعلانیہ سنسرشپ لگائی گئی ہے اور اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات پر مکمل پابندی ہے جو کسی بھی جمہوری طرزحکومت میں نہیں دیکھی گئی۔ ملک میں اس وقت پر عملاً سول مارشل لاء نافذ ہے اور عدلیہ، میڈیا، نیب اور پارلیمان سمیت تمام ادارے غلام بنادئیے گئے ہیں۔ ہم ان تمام اداروں کی آزادی اور ان کو آئینی حق دلوانے کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ عوام اب موجودہ حکومت سے تنگ آگئے ہیں اور ایک آواز کے منتظر ہیں، جو بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھائے گا عوام ان کا ساتھ دے گی، یہی آواز25جولائی کو متحدہ اپوزیشن نے کردکھایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کی رخصتی کے بعد عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن آئندہ کا لائحہ عمل دے گی، متحدہ اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانے میں مکمل کامیاب رہی۔ پشاور سے لاہور اور کراچی سے کوئٹہ تک تمام شہروں میں جم غفیرکا اکھٹا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ان حکمرانوں کو مزید برداشت نہیں کریں گی۔اگر اسٹیبلشمنٹ نے حالات کا تجزیہ جانبدارانہ طور پر کرکے ایک بار پھر عمران خان کو ناجائز سپورٹ فراہم کی تو عوامی غیض و غضب شہروں کے بجائے اسلام آباد کا رخ کرے گا جس سے لوگ اسٹیبلشمنٹ کی شہ پرکیا گیا پی ٹی آئی کا دھرنا بھول جائیں گے۔ یہ کسی خاص قوت کے بغیرفیصلہ کن عوامی دھرنا ہوگا جو موجودہ حکومت کی رخصتی تک جاری رہے گا۔میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ اگر مہنگائی کا خاتمہ کرنا ہے،عوام کو سہولتیں فراہم کرنی ہیں، ملک کی معاشی و اقتصادی حالات کو سدھارنا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی تشخص بحال رکھنی ہے تو مسلط کردہ حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اورعمران خان کو گھر بھیجنا ہوگا۔حکومت کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے رکن شاہدخاقان عباسی کی گرفتاری کے خلاف بہت جلد نیب دفتر کے سامنے احتجاجی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائیگا جس میں رہبر کمیٹی کے تمام ارکان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناکام حکومت جمہوریت پسند و امن پسند رہنماؤں کو گرفتاریوں سے نہیں ڈرا دھمکاسکتے، ہم نے آمریت کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ہے، گرفتاریاں اور جیلیں ہماری کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتی۔