پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ میں پارٹی کی ضلعی کابینہ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر انہوں نے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اے این پی منظم جمہوری قوت ہے اور نو منتخب کابینہ کو جہاں بھی رہنمائی کی ضرورت ہوئی تعاون کیلءئے تیار ہوں، انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کا سانحہ انتہائی دردناک تھا تاہم ایک خاتون وزیر اعظم نے اپنے کردار اور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے ، انہوں نے سانحہ میں شہید ہونے والے ارشد نعیم کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ جس بہادری سے انہوں نے دہشت گرد کا مقابلہ کیا وہ قابل تحسین ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے حکمران دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں ،اور میرے اکلوتے بیٹے میاں راشد شہید کے قاتل کو بچانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں جو نہ صرف اپنا گناہ قبول کر چکا ہے،بلکہ لوگوں نے اسے شناخت بھی کیا،انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنے کا مطالبہ کرتی ہے لیکن یہاں معاملات الٹ ہیں ،جب دہشت گردوں کو ثابت ہونے کے باوجود رہا کیا جائے تو دہشت گردی کیسے ختم ہو سکتی ہے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانی پر ہلال امتیاز مل چکا ہے لیکن مذکورہ دہشت گرد کی رہائی اس ایوارڈ کی توہین ہے،انہوں نے کہا کہ اب تک اس مجرم اور اس کے سہولت کاروں اور کیس لڑنے والوں کو پھانسی ہو جانی چاہئے تھی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور اب اسے آزاد کر کے پھر سے استعمال کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ،اسد منیر کی خودکشی موجودہ احتساب اور نیب کے متنازعہ کردار پر سوالیہ نشان ہے۔